حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۴) — Page 163
حقائق الفرقان ۱۶۳ سُورَةُ الْمُؤْمِنُونَ انسان کی اطاعت و فرماں برداری کر کے خسارہ اٹھاؤ گے۔ غرض اس قسم کے الفاظ اور قیاسات سے وہ مامور من اللہ کی تحقیر کرتے ہیں اور جو کچھ - اپنے اندر رکھتے ہیں ۔ وہی کہتے ہیں ۔ مگر انبیاء، مرسل ، مامور اور اصحاب شریعت کے سچے خلفاء اور جانشین انہیں کیا جواب دیتے ہیں ۔ اِن نَحْنُ إِلَّا بَشَرٌ مِثْلُكُمْ اور کہتے ہیں۔ وَلَكِنَّ اللهَ يَمُنُّ عَلَى مَنْ يَشَاءُ مِنْ عِبَادِهِ (ابراهيم : ۱۲) بے شک ہم تمہاری طرح بشر ہیں۔ تمہاری طرح کھاتے پیتے اور حوائج بشری کے محتاج ہیں ۔ مگر یہ خدا کا احسان ہوا ہے کہ اُس نے ہمیں اپنے مکالمات کا شرف بخشا ہے اس نے ہمیں منتخب کیا ہے اور ہم میں ایک جذب مقناطیس رکھا ہے۔ جس سے دوسرے کھچے بچے چلے آتے ہیں۔ خدا کی توحید کا پانی جو مایۂ حیات ابدی ہے وہ ہمارے ہاں سے ملتا ہے اور لوگ خوش ہوتے ہیں ۔ مگر بد کار انسان جس طرح اپنی بدیوں ، جہالتوں ، شہوات و جذبات کا اسیر و پابند ہوتا ہے۔ دوسروں کو بھی اسی پر قیاس کرتا ہے۔ اور ایک نامرادی پر دوسری نامرادی لاتا ہے۔ اور کہتے ہیں کہ يُرِيدُ أَنْ يَتَفَضَّلَ عَلَيْكُمُ (المؤمنون : ۲۵ ) یہ چاہتے ہیں کہ تم پر فضیلت حاصل کر لیں۔ دکان چل جاوے۔ اپنے اور اپنی اولاد کیلئے کچھ جمع کر لیں۔ یہ ان کی اپنی ہی ہوائے نفس ہوتی ہے۔ جس میں دوسروں کو اسی طرح ملوث اور ناپاک خیال کرتے ہیں جیسے خود ہوتے ہیں ۔ یہ خطر ناک مرض ہے جس کو شریعت میں سوء ظن کہتے ہیں ۔ بہت سے لوگ اس میں مبتلا ہیں اور ہزاروں قسم کی نکتہ چینیوں سے دوسروں کو ذلیل کرنا چاہتے ہیں۔ اور اسے حقیر بنانے کی فکر میں ہیں ۔ مگر یاد رکھو۔ وَ إِنْ عَاقَبْتُمْ (النحل : ۱۲۷) عقاب کے معنے جو پیچھے آتا ہے۔ انسان جو بلاوجہ : دوسرے کو بدنام کرتا ہے اور سوء ظن سے کام لے کر اس کی تحقیر کرتا ہے۔ اگر وہ شخص اس بدی میں مبتلا نہیں جس بدی کا سوء ظن والے نے اسے متہم ٹھہرایا ہے تو یہ یقینی بات ہے کہ سوء ظن کرنے والا ہرگز نہیں مرے گا جب تک خود اس بدی میں گرفتار نہ ہوئے۔ پھر بتاؤ کہ سوء ظن سے کوئی کیا فائدہ اٹھا سکتا ہے؟ مت سمجھو کہ نمازیں پڑھتے ہو۔ عجیب عجیب خوا ہیں تم کو آتی ہیں یا تمہیں الہام ہوتے ہیں۔ ے لیکن اللہ احسان کیا کرتا ہے اپنے بندوں میں سے جس پر چاہتا ہے۔ ۲۔ اگر تم بدلہ دو۔