حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۴) — Page 160
حقائق الفرقان ١٦٠ سُورَةُ الْمُؤْمِنُونَ الرُّسُلِ (الاحقاف : ۱۰) میں کوئی نیا رسول تو نہیں آیا ہوں جو رسول پہلے آتے رہے ہیں۔ ان کے حالات اور تذکرے تمہارے پاس ہیں۔ ان پر غور کرو اور سبق سیکھو کہ وہ کیا لائے اور لوگوں نے ان پر کیا اعتراض کئے۔ کیا باتیں تھیں جن پر عمل درآمد کرنے کی وہ تاکید فرماتے تھے اور کیا امور تھے جن سے نفرت دلاتے تھے۔ پھر اگر مجھ میں کوئی نئی چیز نہیں ہے تو اعتراض کیوں ہے؟ کیا تمہیں معلوم نہیں؟ ان کے معترضوں کا انجام کیا ہوا تھا ؟ الغرض پہلے نبیوں کے جو قصص اللہ تعالیٰ نے بیان کئے ہیں ان میں ایک عظیم الشان غرض یہ بھی ہے کہ آئندہ زمانہ میں آنے والے ماموروں اور راستبازوں کی شناخت میں دقت نہ ہوا کرے۔ اس وقت میں نے نوح علیہ السلام کا قصہ آپ کو پڑھ کر سنایا ہے۔سب سے پہلی بات جو اس میں بیان کی ہے وہ یہ ہے کہ انبیاء علیہم السلام کا اصل وعظ اور ان کی تعلیم کا اصل مغز اور خلاصہ کیا ہوتا ہے۔ وہ خدا کے ہاں سے کیا لے کر آتے ہیں ۔ اور کیا منوانا چاہتے ہیں ۔ اور وہ یہ ہے ۔ آنِ اعْبُدُوا اللَّهَ مَا لَكُمْ مِّنْ إِلَهِ غَيْرُهُ أَفَلَا تَتَّقُونَ الله جل شانہ کی سچی فرماں برداری اختیار کرو۔ اس کی اطاعت کرو۔ اس کی محبت کرو ۔ اس کے آگے تذلیل کرو۔ اسی کی عبادت کرو۔ اور اللہ کے مقابل میں کوئی غیر تمہارا مطاع محبوب معبود مطلوب امید و بیم کا مرجع نہ ہو۔ اللہ تعالیٰ کے مقابل تمہارے لئے کوئی دوسرا نڈ نہ ہو ۔ ایسا نہ ہو کہ اللہ تعالیٰ کا حکم تمہیں ایک طرف بلاتا ہو اور کوئی اور چیز خواہ وہ تمہارے نفسانی ارادے اور جذبات ہوں یا قوم اور برادری ( سوسائٹی ) کے اصول اور دستور ہوں ۔ سلاطین ہوں، امراء ہوں، ضرورتیں ہوں، غرض کچھ ہی کیوں نہ ہو۔ اللہ تعالیٰ کے حکم کے مقابل میں تم پر اثر انداز نہ ہو سکے۔ پس اللہ کی اطاعت ، عبادت ، فرماں برداری ، تذلل اور اس کی حب کے سامنے کوئی اور شے محبوب ، معبود، مطلوب اور مطاع نہ ہو۔ یہ ایک صورت خدا تعالیٰ کے ساتھ بند نہ بنانے کی اعتقادی طور پر ہے۔ دوسری صورت یہ ہے کہ جس طرح اللہ تعالیٰ کا کوئی بد اور مقابل نہ ہو ۔ اسی طرح پر خدا تعالیٰ کی جس طرح پر عبادت کی جاتی ہے۔ جس طرح اس کے احکام کی تعمیل اور اوامر کی تعظیم کی جاتی ہے احکام کا تیل امام کی