حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۴) — Page 159
حقائق الفرقان کرو مر جانے تک ۔ ۱۵۹ سُورَةُ الْمُؤْمِنُونَ تفسیر۔ اس سورہ میں فتح کا بیان ہے ۔ جب تک انسان کی مساعی میں اللہ کا فضل شاملِ حال نہ ہو فتح کا حاصل ہونا ممکن نہیں ۔ مَا هَذَا إِلَّا بَشَرٌ مِثْلُكُمْ کسی سے فیض حاصل کرنے میں پہلی یہی بات سد راہ ہو جاتی ہے۔ الا رَجُلٌ بِهِ جِنَّةٌ - آجکل کے فیلسوف بھی راستبازوں کو یہی کہتے ہیں۔ (ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۹ نمبر ۳۷ مورخہ ۷ جولائی ۱۹۱۰ ء صفحہ ۱۷۹) یہ آیتیں جو میں نے تم کو سنائی ہیں ۔ یہ اس شخص کا قصہ ہے جو دنیا میں اصلاح الناس کے لئے بھیجا گیا تھا۔ اس کا نام نوح ہے علیہ الصلوٰۃ والسلام ۔ وہ ایک پہلا انسان ہے جو لوگوں کو آگاہ اور بیدار کرنے کے واسطے غفلت کے زمانہ میں آیا تھا۔ وہ ایک خطرناک ظلمت اور تاریکی کے دنوں میں نور اور ہدایت لے کر آیا تھا ۔ یہ اسٹوریاں ، کہانیاں ، اور دل خوش کن قصے نہیں بلکہ عبرةً لا وَلِي الْأَبْصَارِ صداقتیں ہیں ۔ ان اہلِ نظر کے لئے جن میں تذکرہ کا مادہ ہوتا ہے جو فہم و فراست سے حصہ رکھتے ہیں ان قصص میں بڑے بڑے مفید اور سودمند نصائح ہوتے ہیں۔ میں نے بجائے خود ان قصص سے بہت بڑا فائدہ اٹھایا ہے۔ ان میں یہ عظیم الشان قصه قابل غور ہے۔ اس کے کتنے وجوہ ہیں ۔ اول۔ کسی مامور من اللہ کو کیونکر شناخت کر سکتے ہیں؟ دوم - مامور من اللہ کیا پیش کرتے ہیں یا یوں کہو کہ وہ کیا تعلیم لے کر آتے ہیں ۔ یا یہ کہو کہ وہ خدا تعالیٰ کے حضور سے کس غرض کیلئے مامور ہو کر آتے ہیں ۔ سوم ۔ لوگ ان پر کس کس قسم کے اعتراض کرتے ہیں؟ یہ امور اس لئے پیش کئے ہیں تاکسی راستباز مامور من اللہ کی شناخت میں تمہیں کبھی کوئی دقت نہ ہو۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے سید و مولی بہادی کامل محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی رسالت اور نبوت کو پیش کرتے ہوئے یہی فرمایا۔ اور یہی آپ کو ارشاد ہوا قُلْ مَا كُنْتُ بِدُعَا مِنَ