حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۴) — Page 153
حقائق الفرقان ۱۵۳ سُورَةُ الْمُؤْمِنُونَ اللغو - كل باطل ۔ کل معاصی لغو میں داخل ہیں ۔ تاش ، گنجفہ ، چوسر سب ممنوع ہیں ۔ گپیں ہانکنا۔ نکتہ چینیاں وغیرھا۔ (ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۹ نمبر ۳۷ مورخہ ۷ رجولائی ۱۹۱۰ ء صفحہ ۱۷۹) میں ایک بات کی طرف متوجہ کرتا ہوں ۔ خوب سنو ۔ چھوٹے ہو یا بڑے ، جوان یا بڑھے۔ خواہ سبق لمبا ہی ہو جاوے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ۔ قَد اَفْلَحَ الْمُؤْمِنُونَ الَّذِينَ هُمْ فِي صَلَاتِهِمْ خَشِعُونَ - وَ الَّذِينَ هُمْ عَنِ اللَّغْوِ مُعْرِضُونَ - مظفر و منصور و ہی مسلمان ہوتا ہے جو لغو سے بچتا رہے۔ یہ ایک معرفت کا نکتہ ہے۔ جب تک یہ عادت ان میں نہ ہو گی کامیاب نہ ہوں گے۔ مگر اب اسلام میں کیا کیا فضول بخشیں چلی ہیں ۔ اول حضرت آدم بہشت میں پیدا ہوئے یا زمین پر ۔ (۲) حوا آدم سے نکلی یا آدم حوا سے ۔ (۳) آدم کا بدن کسی شکل کا تھا۔ (۴) کپڑے کیسے تھے۔ (۵) وہ درخت کیسا تھا (۶) شیطان کیا چیز ہے ۔ (۷) آدم کو جب دھکا دیا گیا تھا وہ کہاں اترا تھا۔ (۸) حضرت نوح کی کشتی کس لکڑی کی تھی ۔ (۹) وہ جانور جو پتہ لگانے کے واسطے گیا تھا۔ وہ کون تھا۔ (۱۰) اس کشتی میں ہاتھی گھوڑے سب کچھ ڈالے گئے گویا سارا جہان ہی ہوا۔ (۱۱) حضرت موسی کی لاٹھی کس درخت کی تھی ۔ (۱۲) حضرت موسیٰ کا قد کتنا لمبا تھا۔ کہتے ہیں کہ ستر ہاتھ لاٹھی تھی اور ستر ہاتھ حضرت موسیٰ کا قد تھا اور ستر ہاتھ اچھل کر عوج بن عنق کو مارا مگر اس کے گئے ( ٹخنے ) پر لگی ۔ گویا اس کا ٹخنہ ۲۱۰ ہاتھ زمین سے اونچا تھا۔ اور اب دریائے نیل پر اس کی ٹانگ کی نلی کا پل بنا ہوا ہے اور جب نوح نبی کی لہر آئی تو عوج مذکور کو گئے گئے آئی۔ غرضیکہ بڑے بڑے لمبے قصے بیان کئے گئے ہیں ۔ میں تو ایسے مسئلوں سے دنیا میں آگے ہی گھبرایا ہوا ہوں۔ اب میں بڑھا ہوں۔ میں نصیحت کرتا ہوں کہ اللہ کی کتاب میں لغو سے کام نہ لو۔ تفسیریں پڑھو۔ جب ایسے قصے آئیں۔ انہیں چھوڑ دو۔ معلوم ہوتا ہے کہ یہود اور نصاریٰ اور مجوسیوں نے وہ قصے ڈال دیئے ہیں۔ قصوں کی وہ بھر مار ہے کہ ہم اصل قرآن تو پڑھ ہی نہیں سکتے ہزار در ہزار