حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۴)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 150 of 560

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۴) — Page 150

حقائق الفرقان ۱۵۰ سُورَةُ الْمُؤْمِنُونَ فضل سے اس کو بڑھاتا ہے۔ اس لئے اس پیدائش کے مقابلہ میں ادھر رکھا فَكَسَوْنَا الْعِظْمَ لَحْمًا۔ میں تمہیں سچ کہتا ہوں کہ انسان اپنی فروج کی حفاظت سے بڑے نفع اٹھاتا ہے۔ میں نے ۳۲-۳۰ برس کی عمر میں شادی کی تھی اور میں ان مشکلات سے واقف تھا۔ اس لئے میں نے اپنی بیوی کو کہا کہ بچوں کی شادی جلدی کر دو۔ میں نے اس سمندر کو تیر کر دیکھا ہے اور میں جانتا ہوں کہ کس قدر مشکل ہے۔ مجھے تو اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے بچایا۔ میری فطرت میں مطالعہ کتب کا شوق رکھ دیا۔ اس شوق کی وجہ سے میرا کوئی دوست نہیں بن سکتا تھا کیونکہ میں بناتا ہی نہ تھا۔سمجھتا تھا کہ وقت ضائع ہوگا ۔ مگر اس میں کوئی شبہ نہیں کہ یہ منزل بڑی سخت ہے۔ اس لئے تم اگر مومن ہو کر مظفر و منصور ہونا چاہتے ہو تو اپنے فروج کی حفاظت کرو اور جو شخص اللہ تعالیٰ کے اس حکم کی خلاف ورزی کرتا ہے وہ بامراد نہیں ہو سکتا۔ اس کے بعد ایک اور مرتبہ ہے وہ ادائے امانت کا ہے انسان جب ان پانچواں و چھٹا گر مدارج سے گزر جاتا ہے تو پھر اللہ تعالیٰ کے فضل اس کے شامل حال ہو جاتے ہیں۔ لوگ امانت کے معنے صرف اموال تک محدود کرتے ہیں مگر مجھے جو اللہ تعالیٰ نے سمجھایا ہے وہ یہی ہے کہ امانت کے معنے ہیں ماتحت ، نوکر ، رعایا۔ میں اس کے یہی معنے کرتا ہوں ۔ انسان کو چاہیے کہ اللہ نے جن وجودوں پر اسے حکومت دی ہے اور جن کو اپنے علم کے نیچے اس کے ماتحت رکھا ہے ان سے پاک سلوک کرے اور ان کے دین و دنیا کی بھلائی اور نفع رسانی میں کوشش کرے ۔ ہاں اگر کوئی شخص کسی کے پاس کوئی امانت رکھے تو اس میں خیانت نہ کرے۔ پھر اس کے ساتھ ہی معاہدات کی رعایت بھی ضروری چیز ہے جب کسی قسم کی حکومت انسان کو ملتی ہے تو اس کے ساتھ ہی معاہدات کا باب بھی کھل جاتا ہے ۔ اس لئے ان دونوں کو ایک ہی جگہ جمع کر کے فرمایا۔ وَ الَّذِينَ هُمْ لِأَمَنتِهِمْ وَعَهْدِهِمْ رَعُونَ - معاہدات کی رعایت بڑی بات ہے۔ میں تمہارے معاہدات کا ایک ورق پیش کرتا ہوں ۔ غور تو کرو تم کہاں تک اس کی رعایت و حفاظت کرتے ہو۔ ایک تو وہ معاہدہ ہے جو تم میرے ہاتھ پر کرتے