حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۴)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 148 of 560

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۴) — Page 148

حقائق الفرقان الد ٧ سُورَةُ الْمُؤْمِنُونَ راستے کھل جاتے ہیں پھر جیسے نطفہ کو اپنے اس تعلق میں ( برنگ علقہ ) لغویات سے الگ رہنا چاہیے ورنہ وہ گر جاتا ہے۔ اسی طرح اس مومن کو لغویات سے بچنا ضروری ہے والا وہ اس ترقی سے رہ جاتا ہے جس کی طرف وہ ایمانی حالت کے بعد جارہا تھا۔ نطفہ رحم میں قرار پکڑنے کے بعد علقہ کی صورت اختیار کر چکنے کے بعد ایک تیسر اذریعہ یا گر نطفہ تم میں کے بعد علاقہ کی صورت وقت تک بڑھتا رہتا ہے اسی طرح انسان روحانی پیدائش میں ترقی کرتے کرتے آگے چلتا ہے مال بھی انسان کے لئے ایک عجیب چیز ہے اور اس کے معاملات عجائبات سے بھرے ہوئے ہیں ۔ صرف مال کے متعلق ایک الگ پہلو کی ضرورت ہے جب کسی قوم کے پاس مال آتا ہے تو اس کی حالت بدل جاتی ہے۔ حضرت موسیٰ ، حضرت مسیح علیہما السلام اور ہے ۔ حضرت موسیٰ، حضرت مسیح با آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی قوموں نے کہا افلاس ہے لیکن جب انہیں کثرت اموال ہوئی تو پھر دیکھ ہے لو کیا حال ہوا ۔ دنیا کی رغبت جب انسان کو پیدا ہوتی ہے تو پھر عجیب و غریب کرشمے دیکھنے میں آتے ہیں ۔ میں نے تو دنیا کما کر دیکھی ہے مگر اس میں مجھے کبھی مزہ نہیں آیا ۔ ہر قسم کی سواریاں صحبتیں، لباس ، کھانے، مکانات اور مخلوقات دیکھی ۔ گویا یہ شعر میرے ہی حق میں ہے ه من بہر جمعیتے نالاں شدم! جفت خوشحالاں و بد حالاں شدم ہر کسے از ظن خود شد یار من وزدروں من نجست اسرار من مال کی وجہ سے عجیب عجیب واقعات دنیا میں آتے ہیں اور جبکہ قرآن مجید کامیابی اور فتح مندی کے اصول بتا رہا ہے تو قدرتی طور پر کامیابی کے ساتھ اموال کی ترقی ہونی ضروری تھی اس لئے اس کے مناسب حال یہ اصل اس سے آگے ترقی کا بتایا ۔ وَالَّذِينَ هُمْ لِلزَّكَوةِ فَعِلُونَ - میں نے بتایا ہے کہ لوگ لغو سے بچنے کی کوشش نہیں کرتے اور اس کے بالمقابل حقائق الاشیاء کو ترک کر دیتے ہیں تو ہر چیز کو لغو سمجھ کر چھوڑ دیتے اور اس کے مفاد سے ۔ بے بہرہ رہ جاتے ہیں اور یا تو بے ہودہ خیالات سوچتے رہتے یا بیہودہ مجلسوں میں بیٹھے ٹریں مارتے رہتے ہیں۔ سب سے بڑا درد اے (1) میں ہر مجمع اور جماعت کے ساتھ نالاں ہوا ، خوشحال اور بدحال لوگوں کے ہمراہ رہا۔ (۲) ہر شخص اپنے خیال کے مطابق میرا یار بنا اور میرے اندر سے میرے رازوں کی جستجو نہ گئی ۔