حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۴)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 145 of 560

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۴) — Page 145

حقائق الفرقان الده سُورَةُ الْمُؤْمِنُونَ مومن ہر چند نماز بھی پڑھتا ہو۔ لیکن ترقی کے۔ کے لئے ضروری ہے کہ پہلے اس کی نماز میں خشوع ہو اپنے آپ کو وہ بالکل ایک مردہ زمین تصور کر کے فضل الہی کی بارش کا امید وار ہو ۔ تب اس کے اندر خوبیوں کے بیچ نشو و نما پائیں گے اور ان تخموں کے نشوونما کے لئے ضروری ہے کہ مضر اور لغوحصوں سے الگ رہے ۔ لغویات کو دور کرنے کا نظارہ بھی عجیب ہے۔ کسان کس طرح لغو چیزوں کو کھیتوں سے الگ کر دیتے ہیں اسی طرح مومن کے لئے ضروری ہے کہ وہ لغویات کو ترک کرے۔ اسی کا نام روحانی اصطلاح میں ترک شر بھی ہے اور نواہی سے بچنا بھی ہے۔ پس کامیابی اور مظفر و منصور ہونے کا دوسرا گر یہ ہے کہ لغویات سے بچ کر جناب النبی سے تعلق رکھے ۔ یہی تعلق ہے جو جسمانی پیدائش میں خَلَقْنَا النُّطْفَةَ عَلَقَةً (المؤمنون : ۱۵) کہلاتا ہے جناب الہی سے ایسا تعلق ہو کہ ہر حالت میں وہ جناب النبی کا سچا فرمانبردار ہو۔ کسی کی دوستی ، دشمنی ، غریبی ، امیری ، مقدمات غرض کوئی بھی حالت ہو جناب الہی کا فرمانبردار ہو اور ہر قسم کی نافرمانیوں سے بچنے والا ہو ۔ ایک جگہ اس کی تصریح بھی فرمائی ہے۔ وَ الصَّبِرِينَ فِي الْبَأْسَاءِ وَالضَّرَّاءِ وَحِيْنَ الْبَأْسِ أُولَئِكَ الَّذِينَ صَدَقُوا وَ أُولَبِكَ هُمُ الْمُتَّقُونَ (البقرة: ۱۷۸) ۔ گویا مومن وہی ہوتے ہیں جو ہر قسم کے دکھوں تکلیفوں اور مقدمات میں اللہ تعالیٰ کو ناراض نہیں کرتے ۔ اب تم اپنی عمر کو دیکھو اور غور کرو کہ تمہاری زندگی میں جب اس قسم کی حالتیں تم پر آئیں تم نے کیا کیا ؟ ہماری حالت کا نقشہ اور اب بھی سوچو کہ اپنے طافوں میں گھتے ہوئے جب تک تم جاگتے ہو تم کیا کرتے ہو کیا اپنے اعمال کا محاسبہ کرتے ہو یا منصوبے بازیوں میں وقت گزار دیتے ہو۔ میں تمہیں ایک مثال سناتا ہوں جس سے تم کو معلوم ہوگا کہ عنِ اللَّغْوِ مُعْرِضُونَ پر کہاں تک عمل ہوتا ہے۔ ایک جگہ میری چار پائی تھی اس سے نیچے ایک مکان میں انگریزی خوان احداث تھے۔ عشاء کی نماز کے بعد میں جب اپنی چار پائی پر لیٹا تو ان میں سے ایک نے بڑی لمبی اے بنا یا ہم نے اس سیال کو بستہ خون کے تنگی اور تکلیف اور لڑائی کے وقت صابر و مضبوط رہتے ہیں یہی لوگ سچے ہیں ( دین اسلام میں ) اور بس یہی متقی ہیں ۔