حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۴)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 143 of 560

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۴) — Page 143

حقائق الفرقان ۱۴۳ سُورَةُ الْمُؤْمِنُونَ بهيج (الحج : 1) زمین جب ویران ہوتی ہے نہ اس پر پودے اگتے ہیں نہ پھل پھول ہوتے ہیں اس میں کوئی دلر بائی نہیں ہوتی، نہ سبزہ لہلہاتا ہے نہ پرند چہچہاتے ہیں۔ پس جب تم نماز پڑھو تو اپنے آپ کو ایسا ہی سمجھو جب تم اپنی حالت اس طرز کی بناؤ گے تو پھر جیسے اجڑی ہوئی زمین پر رحمت کی بارش ہو کر اسے سبزہ زار بنا دیتی ہے اور اس میں پڑے ہوئے بیجوں کو نشو و نما بخشتی ہے اسی طرح پر اللہ تعالیٰ کا فضل تمہاری ان مخفی قوتوں کو ایک نشو و نما عطا کرے گا اور برکات کے ثمرات پیدا ہوں گے۔ پس پہلی تدبیر یہ ہے کہ تم فرمانبردار ہو کر نمازوں میں خشوع پیدا کرو اور وہ دعا ہے۔ لوگ نماز کا ڈھانچہ تو بنا لیتے ہیں مگر اس ڈھانچے کے اندر حقیقت کی روح خشوع سے پیدا ہوگی اور خشوع کا پیدا کرنا عجائبات سے ہے۔ اس کا ایک قاعدہ ہے اور اس کو اسیر ، قاعدہ ہے اور اس کو اسی رکوع میں اسی آیت کے بالمقابل رکھ کر بتایا ہے لَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنْسَانَ مِنْ سُلَةٍ مِنْ طِينٍ (المؤمنون : ۱۳ - روحانی اور جسمانی پیدائش اس روحانی پیدائش کے مقابل میں اس کا ایک مثیل جسمانی پیدائش کے رنگ میں دکھایا ہے ان عناصر میں نہ حسن ہے نہ دلر بائی ۔ لیکن جب اکٹھے ہوتے ہیں تو اس اتحاد کی برکت سے ان میں ایک خاص صلاحیت پیدا ہو کر وہ غذا بنتے ہیں پھر اس کے ساتھ مختلف قسم کے مضرات بھی ہوتے ہیں لیکن جب وہی عناصر غذا کا رنگ اختیار کر کے انسان کے اندر جاتے ہیں پھر ان کا ایک تجزیہ شروع ہوتا ہے اور مضر ذرات یا اجزاء کو الگ کرنے کا ایک بہت بڑا سلسلہ شروع ہوتا ہے کہیں پیشاب کے ذریعہ زہریں الگ ہو رہی ہیں کہیں پاخانہ کے ذریعہ کبھی پسینہ کے رنگ میں ۔ غرض تمام مضر اشیاء اس سے الگ ہو کر ایک مفید حصہ غذا کا خون بنتا ہے پھر وہ مختلف چکروں اور عملوں کے نیچے رہ کر اپنے مضر اشیاء کو الگ کرتا ہوا حیوانات منی (سپرمٹوزا ) کی صورت اختیار کرتے ہیں اب اگر اللہ تعالیٰ کے فضل کی بارش نہ ہو تو اس قدر عملوں کے بعد بھی وہ حیوانات منی کی شکل اختیار نہ کریں۔ بہت سے ایسے لوگ دیکھے ہیں جو چالیس چالیس برس سے شادی کئے ہوئے ہیں اور بلا ناغہ جماع کرتے رہے ہیں ۔ مگر ایک جونک بھی پیدا نہیں ہوئی۔ لے اور تو زمین کو دیکھتا ہے سوکھی اور بے حس و حرکت پڑی ہے پھر جب کہ ہم نے اس پر پانی برسا یا تو وہ پھر سبزہ زار ہو کر لہلہانے لگی اور ابھری اور اس نے اگائے ہر ایک چیز کے عمدہ عمدہ جوڑے۔ ۲۔ ہم نے پیدا کیا انسان کو مٹی کے خلاصہ سے۔