حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۴) — Page 136
حقائق الفرقان ۱۳۶ سُوْرَةُ الْحَجِّ یا ان کی معمولی قدرتی رفتار اور حرکات میں فرق ڈال سکتا ہے۔ نہیں نہیں یہ وہی قدرتی تسخیر ہے جو پہلے بیان ہو چکی ہے۔ اور اسی ہی کو باری تعالیٰ امتنانا اور احساناً یاد دلاتا ہے۔ سعدی نے اس موقع پر کیا خوب کہا ہے اور کیا خوب اس تسخیر و تسخر کا مطلب حل کیا ہے ۔ گو یا سات سو برس قبل عقلمند پادری صاحب کے مجہول اعتراض کا جواب دے دیا ہے۔ ابر و باد و مه و خورشید و فلک در کارند تا تو نا نے بکف آری و بغفلت نخواری همه از بهر تو سرگشته و فرماں بردار شرط انصاف نباشد که تو فرمان نبری ( فصل الخطاب المقدمه اہل الکتاب صفحه ۱۵۶ ۱۵۷) سَخَّرَ لَكُمْ مَّا فِي الْأَرْضِ ۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ زمین کی تمام چیزیں تمہارے مسخر کر دیں۔ بلکہ دوسرے مقام پر فرمایا کہ آسمان کی چیزیں اور شمس و قمر بھی تمہارے مسخر کر دیا مگر افسوس کہ مسلمانوں نے بہت کم ان آیات سے نفع اٹھایا ہے اور عملیات کے ذریعے تسخیر کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں جو بالکل لغو اور بے ہودہ بات ہے۔ افسوس کہ جن کی کتاب میں لکھا ہے کہ کل کی فکر آج نہ کرو“ دولتمند خدا کی بادشاہت میں داخل نہیں ہو سکتا۔ وہ تو سارے جہان کی دولت سمیٹ رہے ہیں ۔ اور جن کیلئے سب کچھ مسخر کر دیا گیا ہے۔ وہ بھوکوں مرتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ مسلمانوں نے خدا کی کتاب کو چھوڑ دیا اور سست و کاہل الوجود ہو گئے ۔ اِنَّمَا أَشْكُو بَنِي وَحُزْنِي إِلى اللهِ ☑ ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۹ نمبر ۳۴ مورخہ ۱۶ رجون ۱۹۱۰ ء صفحہ ۱۷۷) ٦٨ - لِكُلِّ أُمَّةٍ جَعَلْنَا مَنْسَكًاهُمْ نَاسِلُوهُ فَلَا يُنَازِعُنَّكَ فِي الْأَمْرِ وَادْعُ إلى رَبِّكَ إِنَّكَ لَعَلَى هُدًى مُسْتَقِيمٍ - ترجمہ ۔ ہر ایک جماعت کے لئے ہم نے ایک عبادت کا طریقہ ٹھہرا دیا وہ اس پر چلتے ہیں تو ان کو چاہیے کہ تجھ سے نہ جھگڑیں دین میں اور تو بلا تیرے رب کی طرف کچھ شک نہیں کہ تو ہی سیدھی راہ پر ہے۔ تفسیر - مَنْسَكًا - مَنْسَك عربی بولی میں جگہ کو کہتے ہیں ۔ کیسی جگہ جہاں جانے کی انسان کو اے بادل، ہوا ، چاند اور سورج اور فلک سب مسخر کئے گئے ہیں تا کہ تو بھی کام کر کے روزی روٹی کمائے اور غفلت سے نہ کھائے۔ یہ سب چیزیں تمہاری مطیع و فرمانبردار ہیں۔ اگر تو فرمانبردار نہیں تو یہ شرط انصاف نہیں۔ ۲ میں فریاد کرتا ہوں اپنی بے قراری اور رنج کی اللہ سے۔