حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۴)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 135 of 560

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۴) — Page 135

حقائق الفرقان الله سُوْرَةُ الْحَجِّ بے شک کشتیاں ، جہاز، دریا، سمندر، سورج، چاند، ستارے، رات دن، چار پائے ، مویشی باری تعالیٰ جل شانہ نے محض اپنے لطف وکرم سے مفت ہمارے کام میں لگا رکھے ہیں۔ بایں معنی کہ ان کی خلقت اور فطرت ایسی بنائی ہے کہ بلا اجرت ہمارے منافع اور مصالح دنیوی کے اتمام و انصرام میں لگے ہوئے ہیں۔ بلکہ حقیقت ہماری زندگی و معاش انہیں اشیاء اور قومی طبعی کے وجود پر موقوف ہے۔ چونکہ ان بڑے بڑے قومی طبعی مثلاً سمندر، ہوا، سورج ، چاند، ستارگان رات دن وغیرہ پر مِنْ حَيْثُ الْخَلق ہم قدرت نہیں رکھتے اور نہ جبراً و قہراً ان سے کام لے سکتے ہیں ۔ اس لئے اللہ تعالیٰ اپنا فضل و امتنان و احسان جتا کر ہم سے اس مہربانی کی شکرگزاری لینے کے لئے ان اشیاء کا اور ان سے ہمیں منافع پہنچنے کا ذکر فرماتا ہے کہ دیکھو ایسی ایسی بڑی زبر دست چیزیں جن پر تمہارے دستِ قدرت کو رسائی ممکن نہ تھی۔ مفت میں میں نے تمہارے کام میں لگا دی ہیں۔ اس کے یعنی خدا کے ہمارے کام میں ان اشیاء کو لگا دینے یا ہمارے ان کو کام میں لانے کے یہ معنی ہیں کہ ہمارے تمام منافع اور مصالح کا مدار ان ہی اشیاء کے وجود پر ہے اور یہ سب تار و پود ہستی اور ہنگامہ با آب و تاب انہیں اشیاء کی مدد اور ذریعے سے نبجھتا اور چل رہا ہے۔ جو لوگ قانون قدرت میں غور و فکر کرتے ہیں وہ خوب سمجھتے ہیں کہ کس طرح پر ہم بعض قوئی قدرت سے قدرتی طور پر اور بعض اشیاء کے خود استعمال صحیح سے متمتع ہو سکتے ہیں۔ اور ہو رہے ہیں۔ اہلِ یورپ نے انہیں قومی قدرت کی طرف توجہ کرنے اور ان کے استعمال صحیح ( تسخیر ) سے مثلاً ایک سٹیم ( بخار) ہی کی تسخیر اور کام میں لانے سے کیسے کیسے منافع اٹھائے ہیں۔ کیسے بیش بہا انجن ایجاد کئے ہیں کہ تجارت اور تمول میں اہلِ عالم پر سبقت لے گئے ۔ یہی عمل تسخیر ہے جسے قادر مطلق رحیم خدا نے فطر تا تفاوت ہر انسان میں ودیعت رکھا ہے۔ مالا مال اور خوشحال وہ لوگ ہوئے ۔ جنہوں نے اس قدرتی عطیے اور فیض دھبی سے کام لیا۔ یہ وہ عمل تسخیر نہیں ہے جسے عوام کا لانعام ڈھونڈتے پھرتے ہیں ۔ اور شب و روز فضول جہد و مجاہدے میں خیر میں ہے جسے عوام کالا سرگرداں اور منہمک رہتے ہیں۔ کیا کوئی شخص کسی قسم کا کلمہ وکلام پڑھ کر سورج اور چاند کو مسخر کر سکتا ہے