حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۴) — Page 131
حقائق الفرقان ۱۳۱ سُوْرَةُ الْحَجِّ ۵۳ - وَمَا أَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رَّسُولٍ وَلَا نَبِيَّ إِلَّا إِذَا تَمَتَّى الْقَى الشَّيْطَنُ فِي أَمْنِيَّتِهِ فَيَنْسَخُ اللَّهُ مَا يُلْقِي الشَّيْطَنُ ثُمَّ يُحْكِمُ اللَّهُ أَيْتِهِ وَاللَّهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌ - ترجمہ ۔ اور ہم نے نہیں بھیجا تجھ سے پہلے کوئی رسول اور نہ نبی مگر اس کو یہ بات پیش آئی کہ اس نے جب کچھ آرزو کی تو شریر و بد کار اس کی خواہش میں روک ڈالنا چاہتے ہیں تو اللہ تعالیٰ شیطان کی خواہش کو مٹا دیتا ہے اور باطل کر دیتا ہے اور پھر اپنی آیتوں کو مضبوط کرتا ہے اور اللہ بڑا جاننے والا اور حکمت والا ہے۔ تفسیر - وَمَا أَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ - مخالفان اسلام اس آیت کے غلط معنے کر کے طرح طرح کے اعتراضات پیش کرتے ہیں ۔ حالانکہ قصور خود ان کے فہم کا ہے۔ اس سورۃ کے گزشتہ رکوع پر نظر ثانی کرو۔ اس میں کیا مضمون ہے۔ صاف معلوم ہوتا ہے کہ کس زور سے اللہ تعالیٰ اپنی توحید و عظمت کو قائم کرتا ہے اور تحدی سے پیشگوئی کرتا ہے کہ دشمن اس کے تباہ ہوں گے۔ کیا ان چھ رکوعوں کے مضامین کے سامنے اس بیہودہ روایت کی کچھ ہستی ہے کہ نبی کریم کی زبان پر اثناء وعظ میں یہ کلمہ بھی جاری ہوا۔ تِلْكَ الْغَرَانِيقُ الْعُلَى وَإِنَّ شَفَاعَتَهُنَّ لَتُرْتَجِي جھوٹ سکتے ہیں جو ایسا کہتے ہیں ۔ اس طرح تو نبی کریم کے کلام سے امان اُٹھ جاوے گا۔ إِلَّا إِذَا تَمَتَّى الْقَى الشَّيْطَنُ فِي أَمْنِيَّتِهِ - نبی کی خواہش یہی ہے کہ توحید پھیلے اور کلمتہ اللہ علیا ہو۔ کوئی شریر اٹھتا ہے تو اس کی خواہشوں میں روک ڈالتا اور چاہتا ہے کہ یہ نبی کا میاب نہ ہو۔ فَيَنْسَخُ اللَّهُ مَا يُلْقِي الشَّيْطَنُ - اللہ تعالیٰ اس شریر کی تمام شرارتوں کو مٹاتا ہے یہ عام قاعدہ ہے کہ جب کوئی نیک اپنی نیکی پھیلانا چاہتا ہے۔ تو کوئی نہ کوئی شریر اس کی مخالفت کرتا اور آخرمنہ کی کھاتا ہے۔ اسی گاؤں میں ایک راست باز آیا۔ اس نے حق پھیلانا چاہا۔ مخالفوں نے روک ڈالی ۔ مگر وہ سب روکیں اٹھ گئیں۔ چنانچہ اس کے ثبوت میں تم تین سو سے زیادہ احمدی بیٹھے ہو۔ ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۹ نمبر ۳۴ مورخه ۱۶ جون ۱۹۱۰ ء صفحه ۱۷۶) لے یہ بت غرانیق بلند درجے والے ہیں کہ ان سے شفاعت کی امید کی جاتی ہے ۔