حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۴)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 127 of 560

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۴) — Page 127

حقائق الفرقان ۱۲۷ سُوْرَةُ الْحَجِّ گئی۔ اور وہاں سور کی قربانی کی گئی۔ شاید کوئی کہہ دے کہ سورنا پاک نہیں ۔ مگر بائبل پڑھیں گے تو اس کے خلاف پائیں گے۔ اس کے کے بالمقابل دیکھو کہ سپین اور فلسطین میں کیسی پر شوکت اسلامی سلطنت تھی ۔ مگر دیکھ لو پرانے سے پرانے معبدوں کو چھیڑا نہیں۔ بلکہ فاروق اعظم کے زمانہ میں جب وہ یروشلم تشریف لے گئے تو وہاں کے بشپ نے کہا کہ یہاں نماز پڑھ لو۔ انہوں نے فرمایا کہ تم بڑے ناعاقبت اندیش ہو۔ اگر میں یہاں نماز پڑھ لوں تو مسلمان اس گرجے کو مسجد بنائیں گے۔ ہماری سرکار صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حضور نجران کے عیسائی آئے۔ اور اتوار کا دن تھا۔ آپؐ نے فرمایا۔ میری ہی مسجد میں گر جا کر لو۔ وہ لوگ رومن کیتھولک ہوں گے۔ مگر کس حوصلہ کے ساتھ ان کو اجازت دی ۔ اس سے پایا جاتا ہے جہاں وہ احسانِ عام کرتے تھے۔ وہاں ابقائے عام بھی ان کا مذہب تھا۔ خواہ ہندوستان میں پہلی صدی ہجری میں عرب آئے ۔ اور کم از کم ساڑھے گیارہ سو سال تک اسلامی سلطنت یہاں رہی۔ اس عرصہ دراز میں ہندوستان کے معابد پر اسلامی سلطنت نے کیا اثر کیا ؟ ان کی موجودگی خود ظاہر کرتی ہے۔ ( بدر جلد ۱۲ نمبر ۳ مورخه ۱۸ جولائی ۱۹۱۲ ء صفحہ ۴۔۵) ۴۲- الَّذِينَ إِنْ مَّكَّنْهُمْ فِي الْأَرْضِ أَقَامُوا الصَّلوةَ وَآتَوُا الزَّکٰوةَ وَ آمَرُوا بِالْمَعْرُوفِ وَنَهَوا عَنِ الْمُنْكَرِ وَلِلَّهِ عَاقِبَةُ الْأُمُورِ - ترجمہ ۔ وہ مظلوم ایسے لوگ ہیں ( یعنی صحابہ ( اگر ہم ان کو قدرت دے دیں گے زمین میں تو وہ قائم رکھیں گے نماز اور دیں گے زکوۃ اور نیک کام کرنے کا حکم دیں گے اور برے کاموں سے روکیں گے۔ اور اللہ ہی کے اختیار میں سب کاموں کا انجام ہے۔ تفسیر (۱) ۔ (آیت) پر تدبر کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ نصرت الہی ان لوگوں کے لئے ہے جو اللہ کے کاموں میں نصرت کریں۔ اس کے دین کی حمایت کریں۔ رض (۲)۔ نمازیں سنوار کر پڑھیں چنانچہ صحابہ میں کسی عمداً تارک الصلوۃ کی نظیر نہیں ملتی ۔ یہی وجہ رض ہے کہ صحابہ " جو نماز نہ پڑھتا اُسے مسلم نہیں سمجھتے تھے۔ اور مسلمان ہونے کا امتیازی نشان بھی یہی قرار