حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۴) — Page 120
حقائق الفرقان ۱۲۰ سُوْرَةُ الْحَجِّ نگاہ کرو۔ تم سمجھ سکتے ہو کہ کون ایسی سخت سردیوں میں اس گاؤں کی طرف سفر کرنے کیلئے تیار تھا۔ پس تم میں سے ہر فرد بشر اس کی قدرت نمائی کا ایک نمونہ ہے۔ ایک ثبوت ہے کہ وہ متقی کے لئے وہ کچھ کرتا ہے جو کسی کے سان وگمان میں بھی نہیں ہوتا۔ یہ باتیں ہر کسی کو حاصل نہیں ہوتیں یہ قربانیوں پر موقوف ہیں ۔ انسان عجیب عجیب خوا ہیں اور کشوف دیکھ لیتا ہے۔ الہام بھی ہو جاتے ہیں ۔ مگر یہ نصرت حاصل نہیں کر سکتا۔ جس آدمی کی یہ حالت ہو۔ وہ خوب غور کر کے دیکھے کہ اس کی عملی زندگی کسی قسم کی تھی ۔ آیا وہ ان انعامات کے قابل ہے یا نہیں۔ یہ ( مبارک وجود) نمونہ موجود ہے۔اسے جو کچھ ملا۔ ان قربانیوں کا نتیجہ ہے جو اس نے خداوند کے حضور گزاریں۔ جو شخص قربانی نہیں کرتا جیسی کہ ابراہیم نے کی اور جو شخص اپنی خواہشوں کو خدا کی رضا کے لئے نہیں چھوڑتا تو خدا بھی اس کیلئے پسند نہیں کرتا جو وہ اپنے لئے پسند کرتا ہے۔ حضرت نبی کریم صلعم کے مقابلہ میں کیسے دشمن موجود تھے ۔ مگر وہ خدا جس نے إِنَّا لَنَنْصُرُ رُسُلَنَا وَالَّذِينَ آمَنُوا فِي الْحَيُوةِ الدُّنْيَا (المؤمن: ۵۲) فرمایا۔ اس نے سب پر فتح دی۔ صلح حدیبیہ میں ایک شخص نے آ کر کہا تم اپنے بھائیوں کا جتھا نہ چھوڑ وایک ہی حملہ میں یہ سب تمہارے پاس بیٹھنے والے بھاگ جائیں گے۔ اس پر صحابہؓ سے ایک خطر ناک آواز سنی۔ اور وہ ہوگا بگا رہ گیا۔ یہ حضرت نبی کریم کے اللہ کے حضور بار بار جان قربان کا نتیجہ تھا کہ ایسے جاں نثار مرید ملے آخر وہ جو باپ بنتے تھے۔ جو تجربہ کار ۔ ربہ کار تھے۔ ہر طرح کی تدبیریں جانتے ۔ ان سب کے منصوبے غلط ہو گئے ۔ اور وہ خدا کے حضور قربانی کرنے والا متقی نہ صرف خود کامیاب ہوا بلکہ اپنے خلفاء راشدین کے لئے بھی یہی وعدہ لے لیا ۔۔۔۔۔ متقیوں کی جماعت میں شامل ہونا پھر ہر سال میں دیکھنا کہ جیسے ہم ایک جانور پر جو ہمارے ملک اور قبضہ میں ہے جزوی مالکیت کے دعوی سے چھری چلاتے ہیں۔ اسی طرح ہمیں بھی اپنے مولی کے حضور جو ہمار اسچا خالق ہے اور ہم پر پوری اور حقیقی مالکیت رکھتا ہے۔ اپنی تمام نفسانی خواہشوں کو اس کے فرمانوں کے نیچے ذبح کر دینا چاہیے۔ ے بے شک ہم مدد کرتے ہیں اپنے بھیجے ہوؤں کی اور ایمانداروں کی دنیا ہی کی زندگی میں ۔