حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۴) — Page 119
حقائق الفرقان ۱۱۹ سُوْرَةُ الْحَجِّ اللہ نے ان کو تمہارے بس میں کر دیا تا کہ تم اللہ کی بڑائیاں بیان کرو اس شکریہ میں کہ اس نے تم کو ہدایت دی اور محسنوں کو خوشخبری سنا دو۔ تفسیر - وَلَكِنْ تَنَالُهُ التَّقْوَى مِنْكُم - اللہ تعالیٰ چاہتا ہے۔ جیسے وہ ( جانور ) تمہارا فرماں بردار ہے۔ ایسے ہی تم میرے مطیع ہو جاؤ ۔ راضی بقضاء۔ کوئی ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۹ نمبر ۳۴ مورخه ۱۶ جون ۱۹۱۰ء صفحه ۱۷۵) اللہ تعالیٰ کی کتاب کو غور سے دیکھنے کے بعد معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کو تقوی بہت پسند ہے۔ اگر انسان اللہ کے ساتھ سچا معاملہ نہ کرے تو اس کے ظاہری اعمال کوئی حقیقت نہیں رکھتے ۔ انسان فطرتا چاہتا ہے کہ کوئی اس کا پیارا ہو جو ہر صفت سے موصوف ہو۔ سو اللہ سے بڑھ کر ایسا کوئی نہیں ہو سکتا۔ یہ پیارے تو آخر جدا ہوں گے۔ ان کا تعلق ایک دن قطع ہونے والا ہے۔ مگر اللہ کا تعلق ابدالآباد تک رہنے والا ہے۔ دنیا کی فانی چیزیں محبت کے قابل نہیں کیونکہ یہ سب فنا پذیر ہیں ۔ کیا دنیا میں ایسی چیز ہے جو بقا رکھتی ہے۔ ہرگز نہیں پس اس کی رحمت اور اس کے فضل کا سہارا پکڑو اور اسی کو اپنا پیارا بناؤ کہ وہ باقی ہے جو اللہ کیلئے انشراح صدر سے ایسی قربانیاں کرتے ہیں ۔ اللہ بھی ان کے اجر کو ضائع نہیں کرتا۔ اس کے بدلے ابراہیم کو اتنی اولا د دی گئی کہ مردم شماریاں ہوتی ہیں۔ مگر پھر بھی ابراہیم کی اولاد صحیح تعداد کی دریافت سے مستثنیٰ ہے۔ کیا کیا برکتیں اس مسلم پر ہوئیں ۔ کیا کیا انعام النبی اس پر ہوئے کہ گننے میں نہیں آسکتے ۔ ہماری سرکار خاتم الانبیاء سرورکائنات حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی اسی ابراہیم کی اولاد سے ہوئے۔ پھر اس کے دین کی حفاظت کیلئے خلفاء کا وعدہ کیا کہ انہیں طاقتیں بخشے گا اور ان کو مشکلات اور خوفوں میں امن عطا کرے گا۔ یہ کہانی کے طور پر نہیں ۔ یہ زمانہ موجود، یہ مکان موجود تم موجود، قادیان کی بستی موجود، ملک کی حالت موجود ہے کس چیز نے ایسی سردی میں تمہیں دور دور سے یہاں اس مسجد میں جمع کر دیا۔ سنو ! اسی دست قدرت نے جو متقیوں کو اعزاز دینے والا ہاتھ ہے۔ اس سے پہلے پچیس برس پر ہے۔اس