حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۴) — Page 110
حقائق الفرقان ١١٠ سُوْرَةُ الْحَجَّ ١٦ - مَنْ كَانَ يَظُنُّ أَنْ لَنْ يَنْصُرَهُ اللهُ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ فَلْيَمْدُدْ بِسَبَبٍ إِلَى السَّمَاءِ ثُمَّ لْيَقْطَعْ فَلْيَنْظُرُ هَلْ يُذْهِبَنَّ كَيْدُهُ مَا يَغِيظُ - ترجمہ ۔ جو کوئی یہ یقین رکھتا ہو کہ اللہ اس کی ہرگز مدد نہ کرے گا دنیا اور آخرت میں تو اسے چاہیے آسمان تک ایک رسی تا نے تصرف الہی کو کاٹ ڈالے اب دیکھ کہ کیا اس تدبیر نے اس کے غصہ کو کم کر دیا۔ تفسیر - لَنْ يَنْصُرَهُ الله - کا کا مرجع نبی کریم ہے۔ ضمائر کا مسئلہ قابل غور ۔ ا مسئلہ قابلِ غور ہے۔ نبی کریم کا ذکر نہیں ہو چکا اور ضمیر آگئی۔ فرماتا ہے جو یہ باور کر رہا ہے کہ دنیا میں اس نبی کو مدد نہیں ملے گی۔ فَلْيَبْدُدُ بِسَبَبٍ إِلَى السَّمَاءِ ۔ اس آیت کے دو معنے کئے گئے ہیں۔ (۱)۔ وہ کوئی ترکیب بنا کر آسمان میں جائے اور محمد رسول اللہ کو جہاں سے نصرت آتی ہے وہاں سے کاٹ دے ( بغیر اس کے کوئی طریق نہ ہو سکے گا ) گویا اس نادان کو سمجھایا ہے کہ آسمانی نصرت کو کون روک سکتا ہے۔ (۲)۔ سماء کے معنے چھت کے ہیں۔ جو شخص کہتا ہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو نصرت نہیں ہوگی اسے چاہیے کہ چھت میں رسہ لڑکا کر پھانسی لے لے ( اور خود کشی کر لے )۔ یہ نصرت تو ضرور آئی ہے۔ ضمیمه اخبار بد ر قادیان جلد ۹ نمبر ۳۲، ۳۳ مورخه ۹ جون ۱۹۱۰ء صفحه ۱۷۴) ۱ - إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَالَّذِينَ هَادُوا وَ الصَّبِينَ وَ النَّصْرَى وَ الْمَجُوسَ وَ الَّذِينَ أَشْرَكُوا إِنَّ اللهَ يَفْصِلُ بَيْنَهُمْ يَوْمَ الْقِيمَةِ إِنَّ اللَّهَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ شَهِيدٌ ۔ ترجمہ ۔ البتہ جو لوگ ایمان لائے یعنی مسلمان ہیں اور جو یہودی ہیں اور ستاروں کے پوجنے والے صابی اور نصاری اور آتش پرست، مجوسی اور مشرک ہندوؤں میں سے کوئی ہو بے شک اللہ فیصلہ کر دے گا ان سب میں انجام کار۔ کچھ شک نہیں کہ اللہ کے سامنے ہر ایک چیز حاضر ہے۔ تفسير - إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَالَّذِينَ هَادُوا - ان سب قوموں کا نام لیا ہے ۔ جن کا متنبہ کرنا مقصود ہے۔ ( تشحید الا ذبان جلد ۸ نمبر ۹ - ماہ ستمبر ۱۹۱۳ صفحه (۴۶۸)