حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۴) — Page 100
حقائق الفرقان ١٠٠ سُوْرَةُ الْأَنْبِيَاءِ ۸۸- وَذَا النُّونِ اِذْ ذَهَبَ مُغَاضِبًا فَظَنَّ أَنْ لَنْ نَّقْدِرَ عَلَيْهِ فَنَادَى فِي الظُّلُمَتِ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ سُبْحَنَكَ إِنِّي كُنْتُ مِنَ الظَّلِمِينَ ۔ ترجمہ ۔ اور ذُو النون ( مچھلی والے) کا بیان کر جب چل دیا وہ غضب کی حالت میں اور اس نے یقین کر لیا کہ ہم اس پر تنگی نہ کریں گے تو پکارا اندھیریوں میں سے یہ کہ کوئی سچا معبود نہیں تیرے سوا۔ تیری پاک ذات بے عیب ہے میں ہوں کمزور مصیبتوں میں پھنسا ہوا۔ تفسیر - مُغَاضِبًا ۔ جو کسی غضب میں آ کر چل دیئے ۔ لَنْ تَقْدِرَ عَلَيْهِ ۔ ہم اس پر کسی قسم کی تنگی نہیں کریں گے۔ یہ معنے نہیں کہ قادر نہیں ۔ ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۹ نمبر ۳۲، ۳۳ مورخه ۹ جون ۱۹۱۰ء صفحه ۱۷۳) حضرت یونس کی دُعا بھی اپنے اندر بہت سے اسرار رکھتی ہے ۔ وہ یہ ہے لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ سُبْحَنَكَ * إِنِّي كُنْتُ مِنَ الظَّلِمِينَ - پہلے لَا إِلَهَ إِلَّا انْتَ سے مسئول کی تعریف کی ہے اور اسے مبداء تمام فیوضات کا اور اپنی ذات میں کامل اور صمد قبول کیا اور الا انتَ سے اس پر بہت زور دیا إِنْ يَمْسَسْكَ اللهُ بِضُرٍ فَلَا كَاشِفَ لَهُ إِلَّا هُوَ (الانعام: (۱۸) ( اگر تجھے اللہ کسی تکلیف میں ڈالے تو اس کا دور کرنے والا بھی اس کے سوا کوئی نہیں ) کے ماتحت دکھ درد دور کرنے والا اللہ ہی کو مانا اور اسے تمام نقصوں سے منزہ اور تمام عیبوں سے مبرا جانا۔ دوسری طرف مَا أَصَابَكُمْ مِّنْ مُّصِيبَةٍ فَبِمَا كَسَبَتْ أَيْدِيكُمُ (الشوری: ۳۱) ( جو تمہیں مصیبت پہنچے تو وہ تمہارے اپنے ہی ہاتھوں سے ہے ) کے موافق اس مصیبت کو اپنی کسی کمزوری کا نتیجہ قرار دیا۔ پھر سُبْحَانَكَ سے تمسک کر کے اپنی مصیبت میں پڑنے اور اپنی کمزوری کا اقرار کیا کہ اِنِّي كُنْتُ مِنَ الظَّلِمِينَ گو یا استغفار کیا ۔ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ توحید ہے اور توحید فاتح ابواب خیر ہے اور ا اور استغفار مُغْلِقُ أَبْوَابِ الشَّرِ ہے۔ اور اس دعا ہے۔ اور اس دعا میں سب کچھ ہے اور اس پر صادق آتا ہے ۔ وَيَدْعُونَنَا رَغَبًا وَرَهَبًا وَكَانُوا لَنَا خَشِعِينَ (الانبياء: ٩١)۔ ( تشحیذ الاذہان جلد ۸ نمبر ۱۔ ماہ جنوری ۱۹۱۳ ء صفحہ ۳۶، ۳۷) ے اور ہمیں کو پکارا کرتے تھے آس لگا کر اور ڈر کر اور ہمارے حضور بڑی عاجزی کیا کرتے تھے۔