حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۴) — Page 95
سُوْرَةُ الْأَنْبِيَاءِ حقائق الفرقان ۹۵ 66 وو ہرگز ضائع غلام ہے اور پھر خدا تعالیٰ نے فرمایا ۔" كَمِثْلِكَ دُرِّ لَا يُضَاعُ“ یعنی تیرے جیسا ۔ رے جیسا موتی ہرگز نہیں کیا جاتا ۔۔۔۔۔ سنو ! تبش رشی نے تو خود آگ میں ہاتھ ڈالا تھا مگر ابراہیم علیہ السلام خود آگ میں نہیں کو دے تھے اور نہ مومنوں، مخلصوں، راست بازوں اور اللہ کے رسولوں کا یہ فعل ہوتا ہے کہ اللہ کو آزمائیں بلکہ لو حکم ہے لا تُلْقُوا بِأَيْدِيكُمْ إِلَى التَّهْلُكَةِ (البقرة: ۱۹۶) یعنی اپنے تئیں خود ہلاکت میں نہ ڈالو۔ اسی سنت النبی کی اتباع میں حضرت ابراہیم علیہ السلام آگ میں خود کود کر نہیں گرے تھے بلکہ لوگوں ان کو نے کہا۔ حَرِّقُوهُ وَانْصُرُوا الهَتَكُمْ إِنْ كُنْتُمْ فَعِلِينَ (الانبياء : ٢٩ ) ۔ اب خدا تعالیٰ کی اسی سنت کے موافق تم اور سارا جہان اور اس سفلی جہان کی ساری طاقتیں اور شوکتیں اور عداوتیں ہمارے امام مہدی اور مسیح کو آگ میں ڈال کر دیکھ لیں۔ یقیناً خدا تعالیٰ اپنے زندہ اور تازہ وعدہ کے موافق اس مہدی کو اسی طرح محفوظ رکھے گا جیسے پہلے زمانہ میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کو اور ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو محفوظ رکھا۔ یہ ہمارا آقا غلام احمد ہے۔ اس لئے ضرور ہے کہ احمد ، محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی غلامی اور اتباع کی برکات اور ثمرات اسے حاصل ہوں۔ جیسے خدا تعالیٰ نے اس کے متبوع کو وَ اللهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ (المائده : ۶۸) (المائدہ: ۶۸) کا وعدہ دیا۔ اسی طرح اسے بھی برسوں پیشتر يَعْصِبُكَ اللهُ وَلَوْ لَمْ يَعْصِمُكَ النَّاسُ ، " کا وعدہ دیا۔ یہ خدا کا مسیح اور مہدی یقینا تمہاری آگ سے بچے گا اور ضرور بچے گا۔ اس نے طاعون جیسی آگ کی خبر دی کہ آنے والی ہے اور کہا کہ میرے لئے آسمان پر ٹیکا لگ چکا ہے آخر وہی ٹیکا سچا نکلا اور زمینی ٹیکا بیکار ہو گیا۔ عیسائی لوگوں، برہموؤں سکھوں اور آریہ سماج نے پھر خصوصیت سے لیکھرام کے واقعہ پر کیا آگ نہیں لگائی اور شیعہ سنی ، مقلد ، غیر مقلد، متصوفوں اور ان کے شرکاء نے کیا کوشش میں کمی کی ہے اور کیسی کیسی آگیں نہیں جلائیں ۔ مگر سب خائب و خاسر ہوئے ۔ اب ظاہری آگ یا اس سے بھی ۔ ۔ اے اللہ تیری حفاظت کرے گا لوگوں سے ۔ ۲ے اللہ تجھے بچائے گا اگر چہ لوگ تجھے نہ بچائیں ۔