حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۴) — Page 94
حقائق الفرقان ۹۴ سُوْرَةُ الْأَنْبِيَاءِ (۴) کلمہ ہے إِنَّا لَنَنْصُرُ رُسُلَنَا وَ الَّذِينَ آمَنُوا فِي الْحَيُوةِ الدُّنْيَا (المومن : ۵۲)۔ ان مقامات کا مقابلہ دونوں قصوں، قصہ حضرت نبی کریم اور قصہ حضرت ابراہیم کے ساتھ کرو وہاں اگر جناب ابراہیم کے مخالفوں نے آگ جلائی اور حرقوا کا فتوی دیا تو یہاں تمام بلا د عرب نے نار الحربے کو جلایا اور صدہا مسعر الحرب سے اٹھ کھڑے ہوئے اور جس طرح وہاں ابراہیم علیہ السلام کے لئے آگ کو برد اور سلام بنایا اسی طرح ہمارے ہادی و مقتداء کے لئے خاص اللہ تعالیٰ نے اس آگ کو بجھا دیا اور فرمادیا۔ اطفاهَا الله (المائدة : ۶۵) یعنی جب کبھی ہمارے نبی کریم کے دشمنوں نے آتش جنگ جلائی ۔ اللہ نے اسے بجھا دیا۔ ابراہیم کے زمانہ پر ہزاروں برس اور ہمارے شفیع صلی اللہ علیہ وسلم پر چودہ سو برس گزرتے ہیں اور تو نے اور ایک تیرے اس معاملہ میں مؤید و هم زبان، تیز زبان نوجوان امرتسری و مولوی نے ہمیں اس طرح خطاب کیا ہے ۔ چاہیے کہ آجکل کسی اہلِ اسلام کو جو ملہم اور پیغمبر ہو کر خدا کے ساتھ عیسی یا موسی کی طرح باتیں کرنے کا دم بھرتا ہے۔ ایک لمبی چوڑی بھٹی کو آگ سے بھر کر بیچ میں پھینک دیا جاوے ۔ اگر آگ گلزار ہو جاوے تو سمجھے کہ قرآنی معجزے سب سچ ہیں امرتسری مولوی پھر اپنی کتاب میں فرماتے ہیں یہ مرزا صاحب قادیانی کی طرف اشارہ ہے ۔ مرزا جی کے دوستو! کیا کہتے ہو ( ترک اسلام ) ۔ ۔۔۔ ہم خدائے تعالیٰ کے فضل سے کامل یقین اور پورے اعتقاد سے دعوی کرتے ہیں اور تمہیں اور تمام جہاں کو سناتے ہیں کہ ہمارا مہدی اور عیسی بن مریم اس وقت موجود ہے اور اس کو وحی ہو چکی ہے۔ نَظَرْنَا إِلَيْكَ مُعَطَرًا وَقُلْنَا يُنَارُ كُونِي بَرْدًا وَ سَلَمَا عَلَى إِبْرَاهِيمَ اس وحی الہی میں ہمارے امام همام مهدی موعود علیہ السلام حضرت مرزا غلام احمد کو ابراہیم کہا گیا ہے۔ اس کے علاوہ عالم الغیب قادر خدا نے آپ کو یہ بھی وحی کی ہے۔ ”آگ سے ہمیں مت ڈراؤ۔ آگ ہماری غلام بلکہ غلاموں کی لے بے شک ہم مدد کرتے ہیں اپنے بھیجے ہوؤں کی اور ایمانداروں کی دنیا ہی کی زندگی میں۔ ۲۔ جنگ کی آگ ۔ آگ جلانے کا آلہ۔