حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۴)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 93 of 560

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۴) — Page 93

حقائق الفرقان ۹۳ سُوْرَةُ الْأَنْبِيَاءِ اس کی قوم کا جواب یہی تھا کہ اسے مار ڈالو ۔ یا جلا دو ۔ سوخدا نے اُسے آگ سے بچالیا۔ اور تیسری جگہ ہے۔ قَالُوا ابْنُوا لَهُ بُنْيَانًا فَالْقُوهُ فِي الْجَحِيمِ - فَأَرَادُوا بِهِ كَيْدًا فَجَعَلْتُهُمُ الْأَسْفَلِينَ - (الصفت : ۹۹۹۸)۔ انہوں نے مشورہ کیا کہ اس کیلئے ایک مکان بناؤ اور اسے آگ میں ڈالو۔ انہوں نے ابراہیم کی نسبت ایذا رسانی کا منصوبہ کیا۔ سو ہم نے انہیں اس منصوبہ میں پست اور ذلیل کیا۔ ان آیتوں سے کس قدر صاف ظاہر ہوتا ہے کہ جو تم نے سمجھا ہے۔ بالکل لغوا اور غلط ہے اس قصہ میں یہ چند کلمات طیبات ہیں ۔ جو مقام غور اور توجہ کے قابل ہیں ۔ پہلا کلمہ ہے۔ ارادوا به كَيْدًا دوسرا - فَجَعَلْتُهُمُ الْأَخْسَرِينَ - تيرا - قُلْنَا يُنَارُ كُونِي بَرْدًا وَ سَلَمَا عَلَى إِبْرَاهِيمَ - چوتھا ۔ وَ نَجَّيْنَهُ وَلُوطًا إِلَى الْأَرْضِ الَّتِي بُرَكْنَا فِيهَا لِلْعَلَمِينَ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ کی سنت ہے کہ ہر ایک گزشتہ نبی کا قصہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے پیروؤں کے صدق اور حقیقت کے ثبوت کے لئے ہوتا ہے۔ اس لئے ہمیں اور ہر ایک مسلمان کو ضرور ہوا کہ حضرت نبی کریم اور مولانا رؤف رحیم کا ماجرا اس بارہ میں دیکھیں۔ اس لحاظ سے جب قرآن کریم کو پڑھتے ہیں تو اپنے نبی رحمۃ للعالمین صلی اللہ علیہ وسلم الی یوم الدین کے بارہ میں یہ کلمات ہمیں ملتے ہیں۔ (1) - إِذْ يَمْكُرُ بِكَ الَّذِينَ كَفَرُوا لِيُثْبِتُوكَ أَوْ يَقْتُلُوكَ أَوْ يُخْرِجُوكَ (الانفال: ۳۱) اور إِنَّهُمْ يَكِيدُونَ كَيْدًا (الطارق : ۱۶) (۲) - آپ پ کے دشمنوں کا ذکر کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ فرماتا بِ أُولَبِكَ حِزْبُ الشَّيْطَنِ أَلَا إِنَّ حِزْبَ الشَّيْطِنِ هُمُ الْخَسِرُونَ (المجادله: ۲۰) (۳) كلمه طيبه ہے جو بخوبی آگ کے مسئلہ کو حل کرتا ہے۔ كُلما أوقَدُوا نَارًا لِلْحَرْبِ أَطْفَاهَا اللهُ (المائده:۶۵) لے اور جب تدبیر کی کافروں نے تیرے لئے کہ تجھے قید کر دیں یا مار ڈالیں یا نکال دیں ۔ ہے وہ تو ایک جنگ کی تدبیریں کر رہے ہیں ۔ سے یہی شیطانی لشکر ہے اور سن رکھو کہ شیطانی لشکر ہی نہ شیطانی لشکر ہی نقصان پانے والا ہے ۔ ہے جب وہ سلگاتے ہیں لڑائی کی آگ تو اللہ اُس کو بجھا دیتا ہے ۔