حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۳) — Page 89
حقائق الفرقان ۸۹ سُورَةُ التَّوبة نادان انسان ہر فعل کی علت غائی اور ضرورت کو نہیں سمجھتا اور نہ اس کے لئے ضروری ہے کہ یہ ہر نہ ایک فعل کی علت غائی ہی سوچتا ر ہے۔ ایک کیکر کے درخت کو جو اس قدر کانٹے لگائے اور شیشم یا آم کے درخت کو ایک بھی کانٹا نہ لگایا۔ اب اگر ایک احمق اعتراض کرے کہ یہ کیا کیا ؟ کیکر کے درخت کو کانٹے کیوں لگائے؟ اور دوسرے کو کیوں نہ لگائے؟ یہ اس کی نادانی ہو گی یا نہیں؟ اس کی مصلحت اور ضرورت کو تو وہی خدا سمجھتا ہے۔ جس نے کیکر اور آم کو بنایا ہے۔ دوسرا کیونکر اسے سمجھے۔ اسی طرح پر انبیاء کے افعال و حرکات جیسا کہ میں نے ابھی کہا ہے اللہ تعالیٰ کے خفی و جلی احکام اور اشارات کے ماتحت ہوتے ہیں بعض اوقات ان کے افعال عام نظر میں ایسے دکھائی دیئے جاتے ہیں جو دوسروں کو اعتراض کا موقع ملتا ہے۔ مگر در حقیقت درست اور صحیح وہی ہوتا ہے۔ اب ایک آدمی دیکھتا ہے کہ بدر کی جنگ میں تین آدمی مخالفوں کی طرف سے نکلے ہیں اور تین ہی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے نکلے ہیں ۔ کوئی کہے کہ تین کے مقابلہ میں ڈیڑھ کافی تھا۔ آپ نے تین کیوں بھیجے جو چھ کے لئے کافی تھے؟ مگر وہ بڑا ہی احمق اور نادان ہو گا جو کہے کہ یہ کارروائی غلط تھی ۔ یا درکھو خدا تعالیٰ کی مرسل مخلوق کو اپنی فراست پر قیاس نہیں کر لینا چاہیے ۔ اسی لئے فرمایا کہ خیر القرون کی مخلوق کو تخلف جائز نہیں ہے خواہ اس میں مصائب اور مشکلات ہی پیدا ہوں اور ہوتے ہی پیدا ہوں او ہیں مگر جب وہ اپنا کام اس پر مقدم نہ کریں گے تو کیا یہ تکالیف اور مصائب اکارت جائیں گے؟ کبھی نہیں ۔ سنو ۔ ذَلِكَ بِأَنَّهُمْ لَا يُصِيبُهُمْ ظَمَا وَلَا نَصَبٌ وَلَا مَخْمَصَةٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَلَا يَطَعُونَ مَوطِئًا يَغِيظُ الْكُفَّارَ وَلَا يَنَالُونَ مِنْ عَدُوٌّ نَيْلًا إِلَّا كُتِبَ لَهُمْ بِهِ عَمَلُ صَالِحٌ إِنَّ اللَّهَ لَا يُضِيعُ أَجْرَ الْمُحْسِنِينَ - خلاصہ کلام یہ ہے کہ سفر میں پیاس لگتی ہے۔ موقع پر پانی نہیں ملتا۔ بوجھ اٹھانا پڑتا ہے۔ تکان یا تکالیف ہوتی ہے ۔ ایسا ہی سفر میں ممکن ہے کہ روٹی نہ ملے یا ملے تو وقت پر نہ ملے ، اس قسم کی صد ہا قسم کی تکلیف ہوتی ہیں ۔ اس قسم کی تکالیف اور مشکلات اگر اللہ تعالیٰ کے لئے ہوں