حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۳) — Page 81
حقائق الفرقان M سُورَةُ التَّوْبَة ۱۱۵- وَمَا كَانَ اللهُ لِيُضِلَّ قَوْمًا بَعْدَ إِذْ هَدْتَهُمْ حَتَّى يُبَيِّنَ لَهُمْ مَّا يَتَّقُونَ إِنَّ اللَّهَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ - ترجمہ۔ اور اللہ ایسا نہیں کہ ہٹا دے کسی قوم کو اُس کو راہ پر لگانے کے بعد یہاں تک کہ بتا دے ان کو وہ چیزیں جن سے ان کو پر ہیز کرنا چاہیے بے شک اللہ ہر ایک چیز کا بخوبی جاننے والا ہے۔ تفسیر - وَمَا كَانَ اللهُ لِيُضِلَّ قَوْمًا - جبر کے مسئلہ پر بہت بحث ہو چکی ہے۔ قرآن ان قوموں کے ہاتھوں میں ہوتا تو کبھی غلطی نہ کھاتے۔ کیونکہ اس میں صاف بتایا گیا ہے کہ احکام شریعت ان قوی کے لئے ہیں۔ جن پر انسان کا اختیار ہے۔ اسی بناء پر تثلیث و کفارہ غلط ہے کیونکہ انسان کو کوئی قوت نہیں دی گئی جس سے وہ ایک اور ایک اور ایک کو تین کی بجائے ایک سمجھے اور اپنے گناہ کا اثر دوسرے پر پائے ۔ (ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۹ نمبر ۳ مورخه ۱۸ رنومبر ۱۹۰۹ ء صفحه ۱۱۸) ۱۱۹ - يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَكُونُوا مَعَ الصُّدِقِينَ - ترجمہ ۔ اے ایماندارو! اللہ کو سپر بناؤ ، اللہ کا خوف رکھو اور سچوں کے ساتھ ہو جاؤ۔ تفسیر وَ كُونُوا مَعَ الصَّدِقِينَ - صداقت عربی زبان میں ایسا لفظ ہے کہ ہر صحیح اور امر واقعہ پر بولا جاتا ہے۔ چور کو پکڑتے ہیں تو کہتے ہیں۔ الکذب الکذب ۔ عمدہ تلوار کو بھی صدق ہی کہتے ہیں۔ أَخُوثِقَةٍ - أَخُوصِدْقٍ۔ سچے علوم کے مطابق عمل درآمد کا نام ہے صداقت راست بازوں کے ساتھ ہو جانا ایک کارا ہم ہے اور بڑی بھاری قربانی۔ (ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۹ نمبر ۳ مورخه ۱۸ نومبر ۱۹۰۹ء صفحه ۱۱۸) اے مومنو! ڈرو تم اللہ سے اور ہو تم ساتھ سچوں کے۔ ( فصل الخطاب المقدمه اہل الکتاب حصہ اول - صفحہ ۷۶) عالم ربانی کے لئے ضرورت ہے کہ تقویٰ سے کام لے اور تقویٰ کی حقیقت اس وقت تک کھل نہیں سکتی جب تک خدا تعالیٰ کے صادق اور مامور بندوں کی صحبت میں نہ رہے۔ جیسا فرمایا ہے ۔ يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَكُونُوا مَعَ الصُّدِقِينَ - اس سے معیت صادق کی بہت بڑی ضرورت معلوم ہوتی ہے اور فی الحقیقت ضرورت ہے۔