حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۳)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 78 of 548

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۳) — Page 78

حقائق الفرقان ۷۸ سُورَةُ التَّوْبَة انبیاء کے جس قدر اوامر ہیں۔ اگر انسان ان پر چلے تو وہ دنیا میں بلحاظ طب بھی آرام سے رہتا ہے کوئی خطرناک موذی مرض اوامر الہی کے اتباع سے پیدا نہیں ہوتی ۔ وَعْدًا عَلَيْهِ حَقًّا ۔ وعدے دو قسم کے ہوتے ہیں۔ کئی وعدے اور ترقی پا جاتے ہیں اس لئے ان کا ایفاء اور کسی رنگ میں ہوتا ہے اس لئے یہاں حقا لگایا ہے کہ اسی طرح پورا ہوگا۔ في التورية - انجیل میں ایک جگہ آیا ہے کہ تو اپنے مال کو وہاں نہ رکھ جہاں چور کا ڈر ہو ۔ تو اسے آسمان پر رکھ۔ و الانجيل - انجیل میں صاف ہے کہ اونٹ کا سوئی کے ناکہ سے گزرنا آسان ہے۔ مگر دولت مند خدا کی بادشاہت میں داخل نہیں ہو سکتا۔ پھر بھی ہم دیکھتے ہیں کہ ان کی نام لیوا امت اپنی تمام ہمت کو مال کے جمع کرنے میں صرف کر رہی ہے۔ (ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۹ نمبر ۳ مورخه ۱۸ نومبر ۱۹۰۹ ء صفحه ۱۱۸) وَعْدًا عَلَيْهِ حَقًّا - توریت کتاب استثناء متی باب ۶ آیت ۱۹۔ تشحید الا ذبان جلد ۸ نمبر ۹ ماه ستمبر ۱۹۱۳ ء صفحه ۴۵۸) إِنَّ اللَّهَ اشْتَرَى مِنَ الْمُؤْمِنِينَ أَنْفُسَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ بِأَنَّ لَهُمُ الْجَنَّةَ (التوبة: ااا) بے شک اللہ نے مومنوں سے ان کی جانیں اور ان کے مال خرید لئے ہیں ( کس چیز کے بدلہ میں ) ان کے جانوں اور مالوں کے معاوضہ میں ان کو جنت دی ہے۔ یہ خرید الہی ہے۔ اللہ تعالیٰ کی تجارت اللہ تعالیٰ کا بیو پارمومنوں کے ساتھ ہے۔ یہ اس کا کس قدر فضل اور کرم ہے کہ جس چیز کو وہ بدوں کسی قسم کا تبادلہ ینے کے بھی مالک اور مختار تھا کہ جس طرح چاہے اس سے کام لے پھر بھی اس چیز کا معاوضہ دیا ہے۔ اللہ اللہ ایسا کریم و رحیم محسن آقا!!! پس یاد رکھو کہ مومن بننے کے ساتھ ہی مومن کہلاتے ہی اپنی جان و مال جو عارضی طور پر اپنی کہلاتی ہے بیچ دی جاتی ہے۔ اس لئے کہ انسان اعلیٰ سے اعلیٰ مراتب سکھ کو چاہتا ہے اور وہ جنت میں حاصل ہوتے ہیں جس کا ظل اور پر تو اسی دنیا سے شروع ہوتا ہے۔ اَنْفُسَهُمْ کے کہنے سے نہ اپنے دل