حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۳)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 77 of 548

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۳) — Page 77

حقائق الفرقان 44 سُورَةُ التَّوْبَة ااا - إِنَّ اللهَ اشْتَرَى مِنَ الْمُؤْمِنِينَ اَنْفُسَهُمْ وَ أَمْوَالَهُمْ بِأَنَّ لَهُمُ الْجَنَّةَ يُقَاتِلُونَ فِي سَبِيلِ اللهِ فَيَقْتُلُونَ وَيُقْتَلُونَ وَعْدًا عَلَيْهِ حَقًّا فِي الثورية وَالْإِنْجِيلِ وَالْقُرْآنِ وَ مَنْ أَوْفَى بِعَهْدِهِ مِنَ اللَّهِ فَاسْتَبْشِرُوا بِبَيْعِكُمُ الَّذِي بَايَعْتُمُ بِهِ وَذَلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ - ترجمہ ۔ ۔ اللہ نے مول لئے ہیں ایمانداروں کے جان و مال اس کے عوض میں کہ ان کے لئے جنت ہے وہ اللہ کی راہ میں لڑتے ہیں اور مارتے ہیں اور مارے جاتے ہیں ۔ اللہ نے سچا اور پکا وعدہ کر لیا ہے تو ریت میں اور انجیل میں اور قرآن میں اور اللہ سے زیادہ قول کا پکا کون ہے تو بشارت اور خوشی ہو اس سوداگری پر جو تم نے اللہ سے کی اور یہ ہی بڑی مراد کو پہنچنا ہے۔ تفسیر۔ انسان کی حقیقی خواہش کیا ہے۔ آرام، روپیہ کمانا، جتھا، حکام سے تعلق چاہنا ، عمدہ مکان بنانا۔ غرض تمام کوششیں اسی آرام کے حصول کے لئے ہیں۔ طب ، طبعیات ۔ سب علوم بھی اسی لئے ہیں۔ پھر لوگ آرام بھی بے انت زمانہ کے لئے چاہتے ہیں۔ اس کے لئے اس رکوع میں ایک گر ۔ بتاتا ہے۔ ان الله - اللہ کے لفظ کا ترجمہ کوئی زبان برداشت نہیں کر سکتی ۔ عرب کسی معبود پر سوا خدا تعالیٰ کی ذات کے یہ لفظ نہیں بولتے تھے حتی کہ ان کے زمانہ جاہلیت کے قصائد میں کہیں یہ لفظ کسی بت یا محبوب پر نہیں آیا۔ سارے قرآن شریف میں اللہ کو موصوف قرار دیا ہے۔ کہیں بھی صفت ہو کر نہیں آیا جس سے ظاہر ہے کہ اور جتنے کام ہیں وہ اس کی تفصیل و تشریح میں ہیں ۔ انْفُسَهُمْ - عربی میں نفس کے دو معنے ہیں ۔ ایک وہ جو انسان کی جان ہے۔ جس سے رُوح غلط مراد لیتے ہیں ۔ دوسرے معنے ان میں سے۔ امْوَالَهُمْ ۔ اس بات کو خوب سمجھ لو کہ مال و جان مومن کا جناب الہی کا ملک ہو چکا ہے۔ پس اس پر مومن کا اپنا کوئی حق نہیں۔ سب کچھ خدا کے حکم کے ماتحت رکھنا چاہیے۔ الْجَنَّةَ - بهشت - آرامگاه ۔