حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۳) — Page 66
حقائق الفرقان ۶۶ سُورَةُ التَّوْبَة ہیں۔ اس کا ذکر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے فَاعْقَبَهُمُ نِفَاقًا (التوبة:۷۷) ابی ، استکبار، بد عہدی یعنی نفاق ، یہ تین باتیں ہوئیں ۔ چوتھی جھوٹ کی عادت ہے جو کہ انسان کو فیض الٰہی سے محروم رکھتی ہے۔ پس چاہیے کہ ہمیشہ اپنا اندرو نہ ٹٹولتے رہو کہ ان عیبوں میں سے کوئی ہمارے اندر تو نہیں ہے۔ ایک طرف محرومی کے اسباب پر غور کرے۔ دوسری طرف تو بہ اور استغفار سے کام لے۔ ورنہ یا درکھو کہ بڑے رے خطرہ کا مقام ہے۔ موسیٰ علیہ السلام کے ہمراہ ایک قوم نکلی تھی اور موسیٰ نے ان کو الہی ارادوں سے اطلاع بھی دے دی تھی کہ وہ تم پر انعام کرنا چاہتا ہے اور جتلا دیا تھا کہ اگر تم حکم نہ مانو گے تو خائب و خاسر ہو گے مگر قوم نے عذر تراشے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ چالیس سال جنگل میں بھٹکتے رہے اور ترقی کی رفتار روک دی گئی ۔ اس سے ظاہر ہے کہ بعض وقت لوگوں کے اعمال ایک مامور کو بھی مشکل میں مامور ڈالتے ہیں۔اس لئے تم لوگوں کو فکر چاہیے کہ ایک شخص مامور ومرسل تم میں موجود ہے۔ تم نے اپنی برادری اور قوم اور خویش واقارب کی پروانہ کر کے اس کے ہاتھ پر خود کو فروخت کر دیا ہے۔ اگر تم میں وہی بلائیں اور ظلمتیں موجود ہیں جو کہ موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ والوں میں تھیں تو تم اس کے راستہ میں روک ڈالتے اور خود فیض سے محروم رہتے ہو۔ جو دنیا میں تو اسے قبول کر کے ناپسندیدہ بن گئے مگر اب خدا کے نزدیک نہ بنو۔ الحکم جلد ۹ نمبر ۲ مورخه ۱۷ جنوری ۱۹۰۵ صفحه ۱۰،۹) ۷۹- الَّذِينَ يَلْمِزُونَ الْمُطَّوِّعِينَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ فِي الصَّدَقْتِ وَ الَّذِينَ لَا يَجِدُونَ إِلَّا جُهْدَهُمْ فَيَسْخَرُونَ مِنْهُمْ سَخِرَ اللَّهُ مِنْهُمْ وَ لَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ - ترجمہ ۔ وہ جو عیب لگاتے ہیں خیرات میں بڑی رغبت سے خیرات کرنے والے مومنوں پر اور ان پر جو نہیں رکھتے مگر اپنی ہی محنت کا ۔ ٹھٹھے کرتے ہیں پس ان کو اللہ ہنسی کی جگہ بنادے گا اور ان کے لئے ٹیس دینے والا عذاب ہے۔ تفسیر وَالَّذِينَ لَا يَجِدُونَ إِلَّا جُهْدَهُمْ - صحابہ میں ایسے بھی تھے جو مزدوری کرتے اور اے تو اس کے نتیجہ میں اللہ نفاق ان کے دلوں میں رکھ دیتا ہے