حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۳) — Page 60
حقائق الفرقان ۶۰ سُورَةُ التَّوبة ۷۲ - وَعَدَ اللهُ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَتِ جَنَّتِ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الْأَنْهُرُ خُلِدِينَ فِيهَا وَمَسْكِنَ طَيِّبَةً فِي جَنَّتِ عَدْنٍ وَرِضْوَانٌ مِنَ اللَّهِ أَكْبَرُ ذلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ ۔ ترجمہ ۔ اللہ نے وعدہ فرما لیا ہے ایماندار مرد اور ایماندار عورتوں سے ایسے باغوں کا جن میں بہہ رہی ہیں نہریں وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے اور عمدہ حویلیاں ہوں گی ہمیشہ کی بہشت میں اور اللہ کی خوشنودی جو سب سے بڑھ کر بات ہے اور یہ ہی تو بہت بڑی کامیابی ہے۔ تفسیر - وَرِضْوَانٌ مِنَ اللهِ أَكْبَر ۔ اوراللہ کی خوشنودی تمام نعمتوں سے بڑی ہے۔ ( نورالدین بجواب ترک اسلام کمپیوٹرائز ڈایڈ یشن صفحہ ۱۷۲) قرآن شریف جو وَ رِضْوَانٌ مِنَ اللهِ أَكْبَرُ کے درجہ پر پہنچانا چاہتا ہے یہ کوئی چھوٹی سی بات نہیں ہے۔ ایک چوکیدار اگر راضی ہے تو گھر والا کتنے گھمنڈ اور ناز میں رہتا ہے اور اگر ایک ڈپٹی انسپکٹر پولیس اس کا حامی ہو تو پھر اپنے آپ کو کیا کچھ سمجھتا ہے۔ تم نے بھی بہت سے لفظ سنے ہوں گے۔ اچھے اچھے متین کہہ اُٹھتے ہیں۔ فلاں شخص ہمارا دوست ہے اس کو کہہ کر فلاں کو گرفتار کرا دیں گے۔ نوکری کے لئے سفارش کر دیں گے۔ چہ جائیکہ صوبہ کے حاکم یا بادشاہ کے ساتھ تعلق ہو۔ پس وہ احکم الحاکمین مولی کریم تو ذرہ ذرہ پر حاکم ہے۔ جہاں واہمہ کی واہمہ بھی برداشت نہیں کرتی کہ اگر وہ راضی ہو جاوے تو کس قدر خوشحالی پیدا ہوسکتی ہے۔ اسی بناء پر وہ دعوی ہے جو آج بہت سے بھائیوں نے سنا ہو گا کہ دنیا کا نور میں ہوں ۔ میں دنیا کا فاتح ہوں میرا مقابلہ کون کر سکتا ہے وغیرہ وغیرہ۔ کیا یہ کوئی انسان باوجود اپنی ہمہ ضعف و ناتوانی کے کہہ سکتا ہے۔ جو ذرا ذراسی باتوں کا محتاج ہے۔ عجز کا تو یہ حال ہے اور طاقت کا وہ نمونہ، یہ طاقت کہاں سے آتی ہے۔ غور تو کرو اس کا منبع وہی ہے رِضْوَانٌ مِّنَ اللَّهِ أَكْبَرُ ۔ سارے دنیا پرست، دنیا کے کئے ، سارے دنیا کے حکمر ان سب اللہ تعالیٰ ہی کی رضا کے محتاج رہتے ہیں۔ اللہ تعالی اگر حامی و مددگار ہو تو کسی کی دشمنی اثر نہیں کر سکتی۔ میں نے وہ آدمی بھی دیکھے ہیں جو دستخط کراتے ہوئے اور کسی کی بھلائی یا برائی کا فیصلہ کراتے ہوئے قلم آگے پیش کیا ہے اور جان نکل