حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۳) — Page 53
حقائق الفرقان ۵۳ سُورَةُ التَّوبة جانے کی ضرورت نہیں ہوتی ۔ حَسْبُنَا كِتَابُ اللهِ لدا (ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۹ نمبر ۱ مورخه ۱۱ نومبر ۱۹۰۹ ء صفحه ۱۱۵) - عَفَا اللَّهُ عَنْكَ لِمَ اَذِنْتَ لَهُمْ حَتَّى يَتَبَيَّنَ لَكَ الَّذِينَ صَدَقُوا وَ تَعْلَمَ الْكَذِبِينَ - ترجمہ ۔ اللہ نے تجھ کو معاف کیا تو نے کیوں اجازت دے دی ان کو جب تک کہ خوب واضح ہو جاوے تجھ پر سچ والے اور تو جان لیتا خاص جھوٹوں کو۔ تفسیر۔ حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حضور چند آدمی عذر کرنے آئے کہ ہم غزوۂ تبوک میں جا نہیں سکتے ۔ انبیاء کی طبیعت میں رحم ہوتا ہے۔ فرمایا۔ اچھا۔ عَفَا اللهُ عَنْكَ - اللہ تعالیٰ ناراض نہیں بلکہ محبت سے فرماتا ہے۔ تم بڑے درگزر کرنے والے ہو۔ اللہ نے بھی تم سے درگزر کی ۔ حَتَّى يَتَبَيَّنَ لَكَ ۔ اس سے ظاہر ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی حکم کے خلاف کارروائی نہ کی تھی ۔ چنانچہ پارہ ۱۸ نور کے آخری رکوع میں فرمایا ۔ إِنَّ الَّذِينَ يَسْتَأْذِنُونَكَ أُولَئِكَ الَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِاللهِ وَ رَسُولِهِ ( النور : ۶۳) اس سے معلوم ہوا کہ اذن مانگنا مومن کا کام ہے۔ یہاں سے معلوم ہوتا ہے کہ اذن لینا کفار کا کام ہے۔ یہ اختلاف نہیں بلکہ اختلاف مواقع پر مبنی ہے یہاں اذن مانگنے والوں کے جھوٹ کا ثبوت دیتا ہے ۔ لده (ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۹ نمبر ۱ مورخه ۱۱ نومبر ۱۹۰۹ ء صفحه ۱۱۵، ۱۱۶) ۴۵ - إِنَّمَا يَسْتَأْذِنُكَ الَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ وَ ارْتَابَتْ قُلُوبُهُمْ فَهُمْ فِي رَيْبِهِمْ يَتَرَدَّدُونَ - ترجمہ ۔ تجھ سے وہی لوگ رخصت مانگتے ہیں جو اللہ کو نہیں مانتے اور آخرت کے دن کو اور شک اور ہلاکت میں پڑے ہیں ان کے دل تو وہ لوگ اپنے شک اور تباہی میں ہی بھٹکتے ہیں۔ اے ہمارے لئے اللہ کی کتاب کافی ہے ۔ ۲ بے شک جو لوگ تجھ سے اجازت لیتے ہیں یہی لوگ ایسے ہیں جو فی الحقیقت ایمان لائے اللہ اور اس کے رسول پر۔