حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۳) — Page 495
حقائق الفرقان ۴۹۵ سُورَةُ الْكَهْفِ نوش ، جماع وغیرہ احکام میں حیوانات اور نباتات میں اشتراک ہوگا ۔ بلکہ حیوانات کو ان باتوں اور ان کے احکامات میں امتیاز و خصوصیت ہوگی ۔ اسی طرح انسان و حیوان کے درمیان کھانے، پینے، جماع کی خواہش میں جس قدر اشتراک ہے اسی قدر کھانے پینے جماع کے احکام میں بھی اشتراک ہو گا مگر انسان ترقی سطوت جبروت، نئے علوم وفنون کی تحصیل اور نئے علوم کو اپنے ابنائے جنس کے سکھلا دینے میں حیوان سے ممتاز ہے۔ ان اشیاء کے احکام میں بھی حیوان سے ممتاز ہوگا ۔ ایسے ہی ہادی رسولوں اور عامہ آدمیوں میں گو عام احکام بشریت کے لحاظ سے اشتراک ہوتا ہے۔ رسولوں کا گروہ بخلاف اور عام آدمیوں کے النبی ملہم مصلح قوم ، مؤید من اللہ ہوتا ہے۔ اس لئے عام احکام بشریت میں اگر چہ عامہ بشر سے اشتراک رکھتے ہیں لیکن اپنی خصوصیت رسالت، مالت ، نبوت ، اصلاح قوم کے احکام میں عامہ خلائق سے ضرور جُدا ہوتے ہیں۔ بلا تشبیہہ ایک مفتوح ملک کی رعایا کے ساتھ ایک فاتح اور حکمران گورنمنٹ کا سپہ سالار یا مجاز حاکم اپنی گورنمنٹ کے حکم سے کوئی معاہدہ کرے اور اس رعایا کو اپنی گورنمنٹ کے احکام سناوے۔ تو اگر اس مفتوح رعایا کے لوگ ان معاہدات اور احکام کی تعمیل نہ کریں تو ضرور وہ رعایا اس گورنمنٹ کی مجرم، باغی ، غدار، نافرمان ٹھہرے گی۔ مگر وہی سپہ سالار اور گورنمنٹ کا ماتحت حکمران اس رعایا کو کوئی اپنا ذاتی کام بتادے اور اپنے طور پر ان رعایا میں سے کسی سے کوئی معاہدہ کرے اور اس رعایا کا آدمی اس سپہ سالار اور اس حاکم کی بات نہ مانے یا معاہدہ اخلاف کرے تو یہ شخص جو اس سپہ سالار اور گورنمنٹ کے ماتحت حکمران کے معاہدہ اور حکم کا مخالف ٹھہرا ہے گورنمنٹ کی بغاوت کا مجرم نہ ہوگا۔ کیونکہ پہلی قسم میں اس سپہ سالار اور حاکم کے احکام فاتح گورنمنٹ کے احکام ہوا کرتے ہیں۔ اور اس سپہ سالار کی زبان فاتح گورنمنٹ کی زبان ، اس کی تحریر فاتح گورنمنٹ کی تحریر ہوا کرتی ہے۔ غور کرو۔ ایک قاتل کو مجاز حاکم کے حکم سے قتل کرنے والے یا پھانسی دینے والے کے ہاتھ اسی گورنمنٹ کے ہاتھ ہوتے ہیں ۔ جس کے حکم سے قاتل کو قتل کرنے والے اور پھانسی دینے والے نے قتل کیا اور پھانسی دیا۔ در صورت دیگر وہی پھانسی دینے والا کسی اور ایسے آدمی کو جس پر اس گورنمنٹ نے موت کا فتویٰ نہیں دیا۔ قتل کر کے دیکھ لے کہ اس کا کا