حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۳) — Page 493
حقائق الفرقان ۴۹۳ سُورَةُ الْكَهْفِ ۱۰۴ تا ۱۰۶ - قُلْ هَلْ تُنَبِّئُكُم بِالْأَخْسَرِينَ أَعْمَالًا - الَّذِينَ ضَلَّ سَعْيُهُمْ في الحيوةِ الدُّنْيَا وَهُمْ يَحْسَبُونَ أَنَّهُمْ يُحْسِنُونَ صُنْعًا - أُولَئِكَ الَّذِينَ كَفَرُوا بِأَيْتِ رَبِّهِمْ وَلِقَابِهِ فَحَبِطَتْ أَعْمَالُهُمْ فَلَا نُقِيمُ لَهُمْ يَوْمَ الْقِيمَةِ وَزْنَا۔ ترجمہ ۔ تم کہہ دو کیا ہم تم کو بتا دیں کون باعتبار عملوں کے بہت برباد ہونے والے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کی کوشش سب دنیا ہی کی زندگی میں گئی گزری اور وہ اپنی جگہ سمجھ رہے ہیں کہ وہ اچھے کام کر رہے ہیں ۔ یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے نہ مانا اپنے رب کی آیتوں کو اور اس کی ملاقات کو تو اُن کا سب کیا کرایا اکارت ہو گیا تو ہم ان کے لئے قیامت کے دن یا انجام کا رکوئی تول نہ قائم کریں گے۔ تفسیر۔ ہم بتا دیں تم کو کن کے کئے اکارت ہیں وہ لوگ جن کی دوڑ دنیا کی زندگانی میں ۔ بھٹک رہے ہیں اور وہ لوگ جانتے ہیں کہ خوب بناتے ہیں کام۔ وہ ہی ہیں جو منکر ہوئے اپنے رب کی نشانیوں سے اور اس کے ملنے سے مٹ گئے ۔ اُن کے کئے ۔ پھر نہ کھڑی کریں گے ہم ان کے واسطے قیامت کے دن تول ۔ اور اسی واسطے ہماری قصص کی کتابوں میں ان کو دراز گوش لکھا ہے۔ کیونکہ دراز گوش احمق کو کہتے ہیں اور الہیات میں جو ضروری چیز ہے۔ ان کی عقل اُس پر ہرگز رسا اور پوری نہیں ۔ گو یا الہیات سے ان کی کھوپڑیوں کو مناسبت ہی نہیں ۔ اور جو اسلامی کتب میں کثرت اولاد یا جوج کی نسبت لکھا ہے وہ بالکل سچ ہے دیکھو با ایں کہ لندن سے ہزاروں باہر نکل جاتے ہیں ۔ تب بھی چھتیس لاکھ کے قریب ( فصل الخطاب المقدمہ اہل الکتاب حصہ اول صفحہ ۱۶۷) ایک شہر میں ہیں۔ - ضل - مستہلک ہو گئیں۔ دیکھو کس قدر ایجادیں ہو رہی ہیں۔ مگر وہ تمام جسمانی راحتوں کے متعلق ہیں۔ روحانیات سے بہرہ نہیں۔ ان کی ساری کوششیں اس دنیا کی زندگی میں خرچ ہو گئی ہیں۔ میں نصیحت کرتا ہوں کہ تم روپیہ جمع کرنے کا خیال چھوڑ دو کہ اس کا انجام سوائے دُکھ و مشکلات کے نہیں۔ يُحْسِنُونَ صُنْعا۔ اس قوم نے کا ریگر یوں کو وہ حسن دیا ہے کہ بائد وشاید۔ پسنہاری کا پیشہ کیسا