حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۳) — Page 488
حقائق الفرقان لد ٧٧ سُورَةُ الْكَهْفِ کہ باب الابواب ایک شہر ہے۔ بحر طبرستان پر جس کو لوگ بحر خرز کہتے ہیں اور وہ جبلِ قبق کے بہت دڑوں میں سے ایک درہ ہے۔ اس درہ میں ایک دیوار کو انوشیروان ( یہ نیا انوشیروان نہیں پرانا ہے ) نے قوم خرز کے حملوں سے بچنے کیلئے بنوایا تھا کیونکہ خرز قوم فارس پر ( یہ وہی فارس ہے جو میدیا کی جزو ہے ) ایسے حملے کرتے تھے کہ ہمدان اور موصل تک پہنچ جاتے تھے۔ اور مراصد الاطلاع کی جلد نمبر ۲ باب السین والدال کے صفحہ نمبر ۱۷ میں ہے کہ سید یا جوج ماجوج جس کا ذکر قرآن کریم میں ہے۔ وہ ترکوں کی آخری حد پر مشرق وغیرہ میں ہے اور اس کی خبر عام شہرت رکھتی ہے۔ سلام ترجمان کی خبر میں اسکا مفصل بیان ہے۔ پھر صاحب مراصد نے اس کی تفصیل کی ہے۔ غرض ایسی دیواریں ہوئی ہیں۔ چین کی دیوار بہت مشہور ہے۔ حاجت ذکر نہیں۔ اور اس کو ہم کسی صورت میں سید ذوالقرنین تسلیم نہیں کر سکتے ۔ اس لئے کہ قرآن کا طرز ہے کہ اہلِ کتاب کے جھگڑوں میں ایسے امور کو بیان کرتا ہے جو غالباً اہلِ کتاب کی کتابوں میں ہوں ۔ اور اہلِ کتاب کی کتاب دانیال میں ہمیں ذوالقرنین کا حال صاف صاف ملتا ہے۔ کسی چینی بادشاہ کا نام ذوالقرنین کتب سابقہ اور اسلامی روایات ولغت سے ثابت نہیں ۔ یورال کی گھاٹیوں میں بھی ایسی دیواروں کا پتہ عرب کے بڑے بڑے جغرافیوں سے ملتا ہے۔ (۱) ۔ مراصد یاقوت حموی مطبوعه فرانس (۲) - مسالک الممالک ابو اسحق ابراہیم الاصطحری الکرخی مطبوعه برازیل (۳) - تقویم البلدان سلطان عماد الدین اسمعیل ۔ پیرس (۴)۔ نزبة المشتاق ایلادریسی ۔ (۵)۔ آثار الباقیه - احمد بیرونی مطبوعہ جرمن (۶) ۔ مقدمہ ابن خلدون طبع مصر (۷)۔ المسالک والممالک ابن حوقل طبع لنڈن ۔ یہ میرے پاس محمد اللہ ہیں۔ ان میں بھی یا جوج و ماجوج کا ذکر ہے۔ کتاب البلد ان کے صفحہ ۳-۵-۹۵۔ ۱۰۴ - ۱۹۳ - ۱۹۸ ۳۰۱ اور مسالک الممالک ۷،۶ بلکہ ستیارتھ صفحہ ۱۹۲ سملاس نمبر ۶ فقرہ ۲۳۵ میں شہر پناہ کے بارہ میں بھی حکم ہے کہ شہر کے چاروں طرف شہر پناہ رکھنا چاہیے ۔ اسی قاعدہ کے موافق اس بادشاہ نے آرمینیہ اور آذربائیجان کے درمیان جیسا بیضاوی وغیرہ مفسروں نے لکھا ہے۔ دیوار بنائی بلکہ اور اور دیواریں بھی ان بادشاہان مید و فارس نے