حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۳)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 485 of 548

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۳) — Page 485

حقائق الفرقان لد ٢٧ سُوْرَةُ الْكَهْفِ جزو عاشر میں کہا ہے اور اس کی جزو عاشر میں ارض یا جوج ہے۔ صفحہ ۶۵ ۔ پھر اقلیم ششم کا بیان کرتے ہوئے صفحہ نمبر ۶۷ میں لکھا ہے اور اسی اقلیم کی دسویں جزو میں بلاد ماجوج ہے۔ پھر اقلیم ہفتم کے بیان میں کہا ہے کہ جبل قو قاقیا یہاں بھی ہے اور اس کے مشرق میں تمام ارض یا جوج ہے۔ اس بیان سے معلوم ہوتا ہے کہ یا جوج بڑی بڑی شمالی بلاد میں پھیلی ہوئی قوم ہے۔ بائیبل کی کتاب حز قیل کے باب ۳۸ میں ہے۔ اور میں ماجوج پر اور ان پر جو جزیروں میں بے پرواہی سے سکونت کرتے ہیں۔ ایک آگ بھیجوں گا اور وے جانیں گے کہ میں خداوند ہوں اور اسی باب میں ہے تو جوج کے مقابل جو ماجوج کی سرزمین کا ہے اور روس ، مسک، تو بال کا سردار ہے تمام ہمارے جغرافیوں میں جو عربی میں ہیں۔ اور وہ جرمن فرانس وغیرہ میں طبع ہوئے۔ اور ہیئت کی کتابوں میں جیسے چخمینی اور اس کی شروح ہیں اور تمام بڑی لغت اور طب کے علمی حصہ کی کتابوں میں اس قوم کا ذکر ملتا ہے اور یہاں ہمیں کتابوں کے دکھانے کی ضرورت بھی نہیں کیونکہ یہ یا جوج ماجوج کا لفظ اج سے نکلا ہے اور اسی سے آگ پنجابی میں اور آگ اردو میں بولا جاتا ہے۔ اور یہ تمام قو میں جوشیلی آگ کی طرح اور رنگت میں آگ سے تیز ہیں ۔ اگنی ہوتر اور آگ میں اعلیٰ اعلیٰ چیزیں مشک، دودھ، شہد ڈالتے ہیں اور اس وقت تمام یوروپ کو میں اعلیٰ آگ سے خاص تعلق ہے۔ آگ سے ایسے ایسے کام لے رہا ہے کہ حیرت ہوتی ہے۔ سورج کو بڑا عظیم الشان مرکز آگ کا یقین کر کے اس کی پرستش ہوتی ہے۔ بلکہ عیسائی مذہب نے تو توریت کا عظیم الشان حکم سبت کا توڑ کر سن ڈے بزرگ دن مانا ہے۔ نیز اگر دیانند نے راست بازی اور تحقیق سے کہا ہے کہ آریہ ورتی شمال سے آئے تو کوئی تعجب نہیں کہ یہ لوگ بھی انہیں یا جوج ماجوج کی شاخ ہوں۔ لاکن اگر یہ ایران سے آئے ہیں تو پھر ذوالقرنین کے ملک سے ہیں جو یا جوج ماجوج کا مخالف تھا۔ پھر میں کہتا ہوں ۔ اس قوم یا جوج ماجوج کے ثابت کرنے کے لئے ہمیں کہیں دور دراز جانے کی ضرورت نہیں ۔ حقیقہ ضرورت نہیں۔ اس لئے کہ لنڈن میں ان دونوں قوموں کے مورثان اعظم کے