حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۳) — Page 479
حقائق الفرقان ۴۷۹ سُورَةُ الْكَهْفِ ایک مؤرخ نے لکھا ہے کہ سائبیریا تک پہونچ گیا تھا۔ جہاں لوگ غاروں میں رہتے تھے۔ (ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۹ نمبر ۲۷، ۲۸ مورخه ۳۰ را پریل، ۵ رمئی ۱۹۱۰ ء صفحه ۱۶۲) ۹۳، ۹۴ - ثُمَّ أَتْبَعَ سَبَبًا - حَتَّى إِذَا بَلَغَ بَيْنَ السَّدَّيْنِ وَجَدَ مِنْ دُونِهِمَا قَوْمًا لَّا يَكَادُونَ يَفْقَهُونَ قَوْلًا ۔ ترجمہ ۔ پھر ایک اور پڑاؤ پر پہنچا۔ یہاں تک کہ جب وہ پہنچا آرمینیا اور آذربیجان کے درمیان کی دو دیواروں میں تو ان کے ورے ایک قوم کو پایا۔ وہ بات نہیں سمجھتی تھی ( کسی طرح )۔ تفسیر۔ پھر سامان کیا اور وہ دوا خاص پہاڑوں کے درمیان پہنچا اور ان پہاڑوں کے ورے ایک ایسی قوم کو پایا جو بات سمجھنے میں کمزور تھی ۔ یہ وہ مقام ہے جو ایران کے شمال میں در بند کر کے مشہور ہے اور اس کے قریب اب تک قبہ نام ایک بستی اسی کیقباد خورس کے نام سے قرآن کی تصدیق کیلئے موجود ہے۔ ( تصدیق براہین احمد یہ کمپیوٹرائز ڈایڈیشن صفحہ ۶۰،۵۹) بَيْنَ السَّدَّيْنِ ۔ پہلے لوگ اپنے شہروں کی حفاظتیں دیواروں سے کرتے تھے۔ جس کو فصیل شہر کہتے ہیں ۔ لاہور میں بھی فصیل تھی ۔ امرتسر کے گرد بھی فصیل و خندق تھی ۔ غرض یہ عام دستور تھا ۔ اس کے وسیلے سے دشمن سے بچے رہتے ۔ کیونکہ آجکل کے یہ خوفناک ہتھیار ان دنوں میں نہ تھے۔ لا يَكَادُونَ يَفْقَهُونَ قَوْلًا ۔ ان کی بولی مید و فارس کے لوگ اچھی طرح نہ سمجھ سکتے تھے۔ ( ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۹ نمبر ۲۷، ۲۸ مورخه ۳۰ را پریل، ۵ رمئی ۱۹۱۰ ء صفحه ۱۶۲) ۹ را به ۹۵ - قَالُوا يُذَا الْقَرْنَيْنِ إِنَّ يَأْجُوجَ وَ مَأْجُوجَ مُفْسِدُونَ فِي الْأَرْضِ فَهَلْ نَجْعَلُ لَكَ خَرَجًا عَلَى أَنْ تَجْعَلَ بَيْنَنَا وَ بَيْنَهُمْ سَدًّا - - ترجمہ ۔ انہوں نے عرض کیا۔ اے ذوالقرنین ! یا جوج ماجوج ہمارے ملک میں آ کر فساد کرتے ہیں ہم تجھ کو روپیہ دیتے جو تو ان کے اور ہمارے درمیان ایک دیوار کھینچ دے۔