حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۳) — Page 477
حقائق الفرقان ۴۷۷ سُورَةُ الْكَهْفِ سورج کے نکلنے اور غروب ہونے کے ملک سے اور قرآن میں اعلیٰ درجے کی راستی سے کہا ہے ذوالقرنین کو ایسا معلوم ہوا کہ سورج دلدل میں ڈوبتا ہے۔ جہاں فرمایا ہے۔ وَجَدَهَا تَغْرُبُ فِي عَيْنِ حَمِثَةٍ " ( الكهف : ۸۷) ( فصل الخطاب لمقدمه اہل الکتاب حصہ اول صفحہ ۱۶۵ ، ۱۶۶) قُلْنَا يُذَا الْقَرْنَيْنِ إِمَّا أَنْ تُعَذِّبَ وَ إِمَّا أَنْ تَتَّخِذَ فِيهِمْ حُسْنًا ہم نے کہا اے ذوالقرنین تو دو طرح کا برتاؤ کر یا سزا دے اور خسروانہ رحم کر یعنی سزا کے لائقوں کو سزا اور رحم کے لائقوں پر رحم کر ۔ ( تصدیق براہین احمدیہ کمپیوٹرائز ڈایڈیشن صفحہ ۵۹ حاشیہ ) ۸۹۰۸۸- قَالَ أَمَّا مَنْ ظَلَمَ فَسَوْفَ نُعَذِّبُهُ ثُمَّ يُرَدُّ إِلَى رَبِّهِ فَيُعَذِّبُهُ عَذَابًا تُكْرًا وَ أَمَّا مَنْ آمَنَ وَعَمِلَ صَالِحًا فَلَهُ جَزَاءَ الْحُسْنَى ۚ وَ سَنَقُولُ لَهُ مِنْ أَمْرِنَا يُسْرًا - ترجمہ ۔ وہ بولا جو ظالم ہے اس کو تو آگے ہم سزا دیں گے پھر وہ لوٹایا جائے گا اپنے رب کے حضور تو وہ اس کو سخت عذاب دے گا ۔ اور جو ایمان لایا اور بھلے کام کیا تو اس کے لئے نیک بدلہ ہے اور ہم اس کو قریب اپنی طرف سے آسان بات کہیں گے۔ تفسیر۔ اس نے کہا ظالموں کو ہم سزا دیں گے پھر اپنے رب کے ہاں جا کر ان پر سخت عذاب ہوگا پر مومن اور نیکو کار کیلئے نیک بدلہ ہے اور ہم بھی اس سے حسن سلوک سے پیش آویں گے۔ غرض ماد اور فارس کی سلطنت جب بلا د شام پر فتح یاب ہوئی تو اس کے بادشاہ نے حسب وحی الہی اور الہام خداوندی وہاں بروں کو سزا اور نیکوں کو انعام دیئے ۔ اگر کسی کو یہود اور عیسائیوں سے جو قصے کے مخاطب ہیں ۔ اس کی نیکی اور بزرگی بلکہ ملہم ہونے میں کلام ہو تو وہ عزرا کی کتاب دیکھئے’ شاہ فارس خورس یوں فرماتا ہے کہ خداوند آسمان کے خدا نے زمین کی سب مملکتیں مجھے بخشیں اور مجھے حکم کیا ہے“ عزرا بابا ۔ ۲۔ اے پایا اس کو ڈوبتا ہے دلدل کے چشمے میں ۔ ( ترجمہ از فصل الخطاب )