حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۳)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 475 of 548

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۳) — Page 475

حقائق الفرقان ۴۷۵ سُورَةُ الْكَهْفِ تفسیر - فاتبع سببا - منازل الارض۔ پڑاؤ میلوں کے نشان کے مطابق چلا۔ في عَيْنِ حَمِئَةٍ - بحیرہ کیسپین جس میں مشہور دلدلیں ہیں ۔ مَغْرِبَ الشَّمْسِ ۔ اس ملک کے لحاظ سے سورج کے ڈوبنے کی وہ جگہ تھی ۔ جیسے لکھنو وغیرہ کے علاقہ کو ممالک مغربی و شمالی اس واسطے کہتے ہیں کہ جب یہ نام رکھا گیا۔ اس وقت یہ صوبہ علاقہ انگریزی کے مغرب و شمال میں تھا۔ اس کے یہ معنے نہیں کہ سارے جہان کا مغرب و شمال وہی ہے۔ وَجَدَهَا ۔ اس نے ایسا پایا۔ بشری آنکھ سے اسے ایسا نظر آیا نہ کہ فی الحقیقت ایسا تھا۔ يذا القرنين - وہی جو مید و فارس کی سلطنتوں کا مورث اعلیٰ تھا ۔ اس جگہ مخاطب ہے ۔ ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۹ نمبر ۲۸،۲۷ مورخه ۳۰ را پریل، ۵ رمئی ۱۹۱۰ ء صفحه ۱۶۲) حَتَّى إِذَا بَلَغَ مَغْرِبَ الشَّمْسِ وَجَدَهَا تَغْرُبُ فِي عَيْنٍ حَمِئَةٍ وَوَجَدَ عِنْدَهَا قَوْمًا - یہ بادشاہ جو دانیال کے خواب میں دو سینگ کا مینڈھا دکھائی دیا اور فارس اور ماد کا حکمران ہوا۔ اس کا نام خورس ہے۔ جب وہ بلاد شام اور شمالی غرب کو فتح کر چکا تو بلیک سی یا بحر اسود کا دوسرا سمندر اور اس کا کالا دلدل آگے آ گیا ۔ اتنے بڑے سمندر کا کنارہ کیقباد کو کہاں نظر آ سکتا تھا۔ وہاں اسے سورج سمندر میں ڈوبتا دکھائی دیا۔ قرآن یہ نہیں فرماتا کہ فی الواقع سورج کالے پانی میں ڈوبتا تھا۔ بلکہ کہتا ہے کہ اس نے یعنی ذوالقرنین نے سورج کو کالے پانی میں ڈوبتا پایا لفظ وَجَدَهَا تَغْرُبُ پر غور کیجئے جس کے معنے ہیں پایا اس نے اس کو کہ ڈوبتا ہے اور یہ نہیں کہا وَكَانَ هُنَاكَ تَغْرُبُ الشَّمْسُ کہ وہاں واقعی سورج ڈوبتا تھا۔ یہ ایسا نظارہ ہے جسے ہر ایک بحری سفر کرنے والے کی آنکھ نے دیکھا ہے کہ وسیع اور اتھاہ سمندر میں سورج اسی میں سے نکلتا اور اُسی میں پھر ڈوبتا دکھائی دیتا ہے۔ اسی قدرتی منظر کو جو ذوالقرنین کے پیش نظر واقع ہوا قدرت کی صحیح نقل یعنی قرآن نے بیان کیا۔ کورس یا خورس کا تسلط پچھم زمین پر ہوا۔ اوّل تو دانیال ۸ باب ۴ میں ہے میں نے اس مینڈھے کو دیکھا کہ پچھم اتر دکن کو سینگ مارتا ہے، دوم تواریخ ایران پر نظر ڈالو۔ لے یہاں تک کہ جب وہ پچھم میں پہنچا۔ اُسے ایسا معلوم ہوا کہ سورج دلدل کے چشمہ میں ڈوبتا ہے۔