حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۳) — Page 466
حقائق الفرقان ۴۶۶ سُوْرَةُ الْكَهْفِ (1)۔ کشتی کے توڑنے پر (۲)۔ لڑکے کے قتل پر۔ (۳)۔ بے مزدوری لینے کے دیوار بنانے پر۔ حالانکہ یہ ہر سہ واقعات خود حضرت موسیٰ علیہ السلام کے گھر میں ہو چکے ہیں۔ لتغرق (الكهف : (۷۲) کا اگر کوئی خوف تھا تو کیا موسیٰ کی ماں نے خود موسیٰ کو دریا میں نہیں بہا دیا تھا۔ کیا دریا میں بہا دینے سے حضرت موسیٰ " غرق ہو گئے تھے۔ اس کے بعد فرعون کے وقت خود حضرت موسیٰ نے ساری قوم کو دریا میں ڈال دیا تھا۔ جہاں بظاہر غرق آب ہو جانے کا خوف تھا۔ ایسا ہی حضرت موسیٰ نے مدین میں کنویں پر عورتوں ( کے مویشیوں ) کو پانی پلایا اور بغیر کسی مزدوری لینے کے خود ہی ان کا کام کر دیا پھر قبطی کے قتل کے وقت اور ( بعد ازاں قارون کے قتل کے وقت ) ایک جان کو بلا وجہ مار دیا تھا۔ دراصل یہ بیان گونه حضرت موسیٰ علیہ السلام کے معراج کا ہے۔ اس معراج میں وہ عبد بطور ایک فرشتے کے ساتھ تھے ۔ اور راہ کے خضر تھے ۔ اور یہ سب باتیں آئندہ واقعات کا بیان کرتی ہیں۔ ان میں سمجھایا گیا کہ تمہیں ایک ظالم بادشاہ کے ساتھ مقابلہ کرنا پڑے گا اور اس سے اور اس کے لشکر سے بچنے کے واسطے تمہیں دریا عبور کرنا پڑے گا اور پھر جنگ کرنی پڑے گی جس میں بہتوں کو قتل کرنا ہوگا۔ دیوار کا معاملہ یہ ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ البرکات و السلام ایک صالح نبی تھے۔ ان کے دو بیٹے تھے۔ ایک بنی اسحاق ۔ ایک بنی اسمعیل ۔ حضرت ابراہیم کے دین کولوگوں نے جب خراب کر دیا تو وہ دیوار ان کی گرنے کو تھی۔ اس کی حفاظت کے واسطے اللہ تعالیٰ نے دو نبی بھیج دیئے ۔ حضرت موسیٰ اور ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ۔ یہ اس دیوار کو اٹھانے والے تھے اور اس طرح وہ پاک تعلیمات کا خزانہ محفوظ رہا۔ اس واقعہ کے معراج ہونے کی اس بات سے بھی تائید ہوتی ہے کہ یہودیوں میں اب تک ایک پرانی کتاب چلی آتی ہے جس کا نام ہے معراج موسیٰ ۔ اس میں جس فرشتے کو حضرت موسیٰ کا رہبر بتلایا جاتا ہے اسی کا نام خضر لکھا ہے۔ لے تا کہ کشتی والوں کو ڈبا دو۔ ( دیکھو انسائیکلو پیڈیا بلیکا حروف موسیٰ ۔ دایا کے پس ) کریں