حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۳)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 449 of 548

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۳) — Page 449

حقائق الفرقان ۴۴۹ سُوْرَةُ الْكَهْفِ سے اب وہ باغ بنی اسمعیل کے سپرد ہوا ۔ ماجوج دراز گوش کہتے ہیں ۔ وہ آخری آچکے ۔ اب محمد کون ہے؟ عقل والو! سو چوانجیل میں لکھا ہے۔ مالک باغ ، باغ اور وں کو سپرد کرے گا۔ آخر کہاں آچکے۔ معاملہ ختم نہیں ۔ کبھی پہلے بنی اسماعیل اس کے مالک ہوئے۔ اب تیرہ سو برس سے مالک ہیں۔ یہود اور عیسائیوں کے لئے عہدۂ باغبانی نہیں رہا۔ باغ کا نام بھی بدل گیا۔ یروشلم سے بیت المقدس بنا۔ متی اس نئی قوم کے حق میں کہتا ہے۔ وہ موسم پر پھل دیں گے۔ متی ۲۱ باب ۴۱۔ اور عرب میں حج کے ایام کو موسم کہتے ہیں ۔ پھر لوقا ۲۰ باب ۱۶ ۔ انہوں ( بنی اسرائیل ) نے یہ سن کے کہا۔ ایسا نہ ہو۔ تب اس نے ان کی طرف دیکھ کے کہا۔ پھر وہ کیا ہے۔ جو لکھا ہے کہ وہ پتھر جسے راجگیروں نے ردّ کیا وہی کونے کا سرا ہوا۔ ہر ایک جو اس پتھر پر گرے چور ہو گا ۔ اور جس پر وہ گرے اسے پیس ڈالے گا اور متی ۲۱ باب ۴۳ ۔ اس لئے میں تمہیں کہتا ہوں ۔ خدا کی بادشاہت تم سے لے لی جاوے گی اور ایک قوم کو جو اس کے پھل لاوے دی جاوے گی۔ یادر ہے۔ بنی اسرائیل صرف روحانی بادشاہ نہ تھے بلکہ روحانی اور جسمانی۔ عیسائی منصفو! یہ پتھر وہی ہے جس کو دانیال نے دیکھا اور وہ پھر پہاڑ بن گیا۔ دانیال ۲ باب ۳۴۔ جو اس پر گرا چور ہوا۔ اور جس پر وہ گرا ۔ اُسے پیس ڈالا جہاد پر اعتراض نہ کرنا۔ قدیم زمانہ میں تصویری زبان کا بڑا رواج تھا۔ اسی خیال پر عیسائیوں نے موسوی رسومات کو صرف نشان قرار دیا ہے۔ مثلاً کہتے ہیں۔ قربانی توریت مسیح کی قربانی کا نمونہ تھی ۔ گو جانور خاموش جان دیتا ہے اور مسیح نے ایلی ایلی پکارتے جان دی۔ ظاہری طہارتیں اصلی طہارت کا نمونہ تھیں۔ پو ہلا ہلانا نالے مسیح کا جی اٹھنا تھا ۔ یوشع نے بارہ پتھر اٹھوائے اور بقول عیسائیوں کے وہ بارہ حواریوں کا گو یا نشان تھا یوشع ۴ باب ۶ وغیرہ وغیرہ ۔ اب سوچو۔ حجر اسود مکے میں کونے کا پتھر تھا۔ اور اسلام سے پہلے سالہا سال کا موجود لوگ اسے چومتے اور اس کے ساتھ ہاتھ ملاتے تھے۔ گویا یہ پتھر کونے اخبار ۳۳ باب ۱۰ ۲ قرنتی ۱۵ باب ۲۱،۲۰