حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۳) — Page 445
حقائق الفرقان ۴۴۵ سُوْرَةُ الْكَهْفِ پہونچاویں۔ یسوع نے انہیں کہا کیا تم نے نوشتوں میں کبھی نہیں پڑھا کہ جس پتھر کو راجگیروں نے ناپسند کیا وہی کونے کا سرا ہوا ( عرب کی طرف اشارہ ہے ) یہ خداوند کی طرف سے ہے اور ہماری ہمار نظروں میں عجیب ۔ اس لئے میں تم سے کہتا ہوں کہ خدا کی بادشاہت ( نبوت و نصرت الہی ) تم ( بنی اسرائیل ) سے لے لی جائے گی اور ایک قوم ( بنی اسمعیل اہل عرب ) کو جو اس کے لئے میوے موسم پر اب بھی ایام حج کو موسم کہتے ہیں ) لاوے گی دی جاوے گی ۔ جو اس پتھر پر گرے گا چور ہو جائے گا۔ پر جس پر وہ گرے اُسے پیس ڈالے گا۔“ مذکورہ بالا عبارت انجیل میں خطوط وحدانی کے اندر جو الفاظ ہیں وہ تشریح و تفسیر ا ہم نے لکھے ہیں اناجیل کے مفسرین نے بھی اقرار کیا ہے کہ ان آیات میں بیٹے سے مراد حضرت مسیح علیہ السلام اور پہلے باغبانوں سے مراد بنی اسرائیل ہیں ۔ دیکھو تفسر عمادالدین اور تفسیر پادری ہو صاحب وغیرہ۔ رجلين - مراد بنی اسرائیل و بنی اسماعیل ۔ لاحدهما - حضرت اسحق کی اولاد کی طرف اشارہ ہے۔ ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۹ نمبر ۲۱ و ۲۲ مورخه ۱۷، ۲۴ مارچ ۱۹۱۰ ء صفحہ ۱۵۷، ۱۵۸) یہ پیشین گوئی اور بشارت به نسبت محمد صاحب صلی اللہ علیہ وسلم کے ہے۔ انجیل میں یہ بشارت نہایت تفصیل سے موجود ہے۔ وہ بڑا باغ اور بنی اسرائیل کا تاکستان یروشلم ہے۔ بنی اسرائیل اپنے ناپاک گھمنڈ میں اپنے بھائی بنی اسمعیل کو ہمیشہ حقیر و ذلیل جانتے رہے اور اپنی باغبانی کے بقول مَا أَظُنُّ أَن تَبِيدَهْذِهِ أَبَدًا ) لا زوال ہونے کا یقین کرتے رہے۔ حضرت مسیح نے ان کو آگاہ کیا اور بتا یا تمہاری باغبانی جاتی رہے گی۔ اب نیا افسر اور نئے باغبان آنے والے ہیں۔ اگر تم نے ان نئے باغبانوں پر حملہ کیا تو چور ہو جاؤ گے اور اگر وہ تم پر گرے پس جاؤ گے۔ اس بشارت میں حضرت مسیح کی تفضیل سنومتی ۲۱ باب ۳۳۔ مرقس ۱۲ باب ۱ لوقا ۲۰ باب ۹ ۔ پھر لوگوں سے یہ تمثیل کہنے لگا۔ کسی نے ایک انگور کا باغ لگا کے اسے باغبانوں کے سپرد کیا اور مدت تک پردیس جا رہا۔