حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۳)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 444 of 548

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۳) — Page 444

حقائق الفرقان マママ سُورَةُ الْكَهْفِ ۳۳ وَاضْرِبْ لَهُم مَّثَلًا رَّجُلَيْنِ جَعَلْنَا لِأَحَدِهِمَا جَنَّتَيْنِ مِنْ أَعْنَابٍ وَ حَفَفْتُهُمَا بِنَخْلِ وَ جَعَلْنَا بَيْنَهُمَا زَرْعًا - و ترجمہ ۔ اور اُن سے دو شخصوں کی مثال بیان کر جن میں سے ایک کو ہم نے دو باغ انگور کے دئے اور ان کے آس پاس کھجور کے درخت پیدا کئے اور دونوں کے بیچ میں کھیتی لگائی۔ تفسیر۔ اس رکوع میں جو تمثیل ہے۔ وہ میں بشرح صدر اور یقین کامل کے ساتھ بیان کرتا ہوں کہ حضرت ابراہیم کی اولاد کی دوقوموں کے متعلق ہے۔ بنی اسرائیل اور بنی اسماعیل ۔ اول الذکر کو خدا تعالیٰ نے ملک کنعان کا باغ عطا کیا۔ ان میں انبیاء بھیجے ۔ انہیں بادشاہ بنایا اور بڑے بڑے انعام ان پر کئے ۔ بجائے اس کے کہ وہ خدا کا شکر کرتے انہوں نے اپنے بھائی بنی اسماعیل اہلِ عرب کو حقارت کی نگاہ سے دیکھا۔ اپنے باغوں اور مال و دولت کے گھمنڈ میں آگئے ۔ اللہ تعالیٰ کو بھول گئے اور دنیا کو معبود بنالیا۔ انبیاء کے قتل کے درپے ہو گئے ۔ انجیل میں بھی اس تمثیل کو لکھا ہے۔ چنانچه متی باب ۲۱ آیت ۳۳ میں ہے ۔ ایک اور تمثیل سنو ۔ ایک گھر کا مالک تھا جس نے انگورستان لگایا اور اس کو چاروں طرف روندا اور اس کے بیج کھود کے لہو گا ڑا اور بُرج بنایا اور باغبانوں کو سونپ کے آپ پردیس گیا۔ اور جب میوے کا موسم قریب آیا۔ اس نے اپنے نوکروں کو باغبانوں کے پاس بھیجا کہ اس کا پھل لاویں۔ پر ان باغبانوں ( بنی اسرائیل ) نے اس کے نوکروں (انبیاء) کو پکڑ کے ایک کو پیٹا اور ایک کو مار ڈالا ۔ اور ایک کو پتھراؤ کیا۔ پر اس نے اور نوکروں کو جو پہلوں سے بڑھ کر تھے بھیجا۔ انہوں نے ان کے ساتھ بھی ویسا ہی کیا۔ آخر اس نے اپنے بیٹے ( حضرت مسیح ) کو ان کے پاس یہ کہہ کر بھیجا کہ وے میرے بیٹے سے دیں گے۔ لیکن جب باغبانوں نے بیٹے کو دیکھا آپس میں کہنے لگے ( بنی اسرائیل کی نبوت کا آخری ) وارث یہی ہے۔ آؤ اسے مار ڈالیں کہ میراث ہماری ہو جاوے اور اسے پکڑ کر اور انگورستان کے باہر لے جا کر ( اپنی طرف سے تو ) قتل (ہی ) کیا۔ جب انگورستان کا مالک آوے گا۔ ان باغبانوں کے ساتھ کیا سلوک کرے گا۔ وے اسے بولے۔ ان بدوں کو بری طرح مار ڈالے گا اور انگورستان کو اور باغبانوں کو سونپے گا۔ جو اسے موسم پر میوہ