حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۳)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 439 of 548

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۳) — Page 439

حقائق الفرقان ۴۳۹ سُورَةُ الْكَهْفِ ۲۴، ۲۵ - وَلَا تَقُولَنَّ لِشَايْءٍ إِنِّي فَاعِلُ ذَلِكَ غَدًا إِلَّا أَنْ يَشَاءَ اللَّهُ وَ اذكرُ رَبَّكَ إِذَا نَسِيْتَ وَ قُلْ عَسَى أَنْ يَهْدِيَنِ رَبِّي لِأَقْرَبَ مِنْ هَذَا رَشَدًا - ترجمہ ۔ اور کبھی نہ کہنا کسی کام کو کہ یہ کام میں کل کروں گا۔ مگر اللہ چاہے تو ( کہہ کر ) اور یاد کر اپنے رب کو جب تو بھول جائے اور کہہ امید ہے مجھ کو میرا رب سمجھا دے گا اس سے زیادہ کامیابی کی راہ ۔ تفسیر - لا تقولن ۔ کبھی بھی نہ کہو ۔ - إِلَّا أَن يَشَاء الله ۔ جہاں کہیں خدا تعالیٰ کی عظمت و جبروت کا خیال نہ ہو ۔ نتیجہ اچھا نہیں ہوتا ۔ سب سے پہلی مثال حضرت یوسف علیہ السلام کے بھائیوں کی ہے ۔ جنہوں نے انا له لحفظون - (يوسف : ١٣) إِنَّا لَهُ لَنْصِحُونَ - (يوسف : ١٢) إِنَّا لَفْعِلُونَ - (يوسف: ۶۲) وغيره الفاظ کے ساتھ دعوی کیا مگر کہیں وفا نہ ہوا۔ ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۹ نمبر ۴۰ مورخه ۱۰ مارچ ۱۹۱۰ ء صفحه ۱۵۶) اس سے بڑھ کر دکھ کی کہانی ایک ہے ۔ حضرت داؤ د اور حضرت سلیمان علیہما الصلوة والسلام کے نام سے عام مسلمان واقف ہیں ۔ مگر سلیمان علیہ السلام کے بیٹے کے نام کی وہ شہرت نہیں جو باپ دادا کی ہے ۔ اور پوتے کا نام تو قریباً معدوم ہے۔ حدیث میں اس راز کا ذکر ہے۔ حضرت سلیمان علیہ السلام نے ایک دفعہ کہا تھا کہ میری بیویاں بہت ہیں۔ ان سے بڑی اولاد اور عظیم الشان لوگ پیدا ہوں گے۔ اس دعوٹی کے ساتھ انشاء اللہ نہ کہا۔ نتیجہ خراب ہوا۔ معلوم ہوتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بھی اپنی ہجرت کے ارادے کو ظاہر کرنا چاہا تھا تب اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ انشاء اللہ تعالیٰ کہہ لو۔ اقرب - آئندہ حالت موجودہ سے پر امن ہوگی ۔ ( ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۹ نمبر ۲۱ و ۲۲ مورخه ۱۷ ، ۲۴ مارچ ۱۹۱۰ ء صفحہ ۱۵۷) لے ہمیں اس کے نگہبان ہیں ۔ ہے ہم تو اس کے خیر خواہ ہی ہیں ۔ سے ہم یہ کام ضرور کرنے والے ہیں۔