حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۳) — Page 438
حقائق الفرقان لدله سُورَةُ الْكَهْفِ ٢٣ - سَيَقُولُونَ ثَلَثَةٌ رَّابِعُهُمْ كَلْبُهُمْ وَ يَقُولُونَ خَمْسَةٌ سَادِسُهُمْ كَلْبُهُمْ رَجْمًا بِالْغَيْبِ وَ يَقُولُونَ سَبْعَةٌ وَثَامِنُهُمْ كَلْبُهُمْ قُلْ رَّبِّي أَعْلَمُ بِعِدَّتِهِمْ مَا يَعْلَمُهُمُ إِلَّا قَلِيلٌ * فَلَا تُمَارِ فِيهِمْ إِلَّا مِرَاءً ظَاهِرًا وَلَا تَسْتَفْتِ فِيهِمْ مِّنْهُمْ أَحَدًا - ترجمہ ۔ قریب کہیں گے لوگ وہ تین ہیں اور چوتھا ان کا کتا اور کہیں گے پانچ ہیں اور چھٹا ان کا کتا بے دیکھے انکل سے اور کہیں گے سات ہیں اور آٹھواں ان کا کتا۔ تم کہہ دو ہمارا رب ہی بخوبی جانتا ہے ان کی گفتی اور ان کی تعداد نہیں جانتے مگر تھوڑے ہی لوگ تو اے مخاطب ! تو ان کے مقدمہ میں جھگڑا نہ کر مگر سرسری اور نہ فتوی پوچھ ان کے بارے میں منکروں میں سے کسی سے۔ تفسير - سَيَقُولُونَ ثَلَثَةٌ رَّابِعُهُمْ كَلْبُهُمْ ، وَ يَقُولُونَ خَمْسَةٌ سَادِسُهُمْ كَلْبُهُمْ رَجْمًا بِالْغَيْبِ وَ يَقُولُونَ سَبْعَةٌ وَثَامِنُهُمْ كَلْبُهُمْ قُلْ رَّبِّي اَعْلَمُ بِعِدَّتِهِمْ مَّا يَعْلَمُهُمُ إِلَّا قَلِيلٌ ( الكهف - (٢٣) ترجمہ ۔ لوگ کہیں گے تین ہیں چوتھا اُن کا کتا اور کہتے ہیں پانچ ہیں چھٹا اُن کا کتا ہے۔ بے نشانہ تیر چلاتے ہیں اور کہتے ہیں سات ہیں اور آٹھواں کتا ہے۔ تو کہہ دے (اے محمد ) میرا رب ہی ان کی تعداد جانتا ہے اور ان کو تھوڑے ہی جانتے ہیں۔ ایک عیسائی کے تین سوال اور ان کے جوابات کمپیوٹرائز ڈایڈیشن صفحہ ۱۹ ) سَيَقُولُونَ - اختلاف مؤرخین کا ہے کہ کتنے تھے کتنے نہ تھے۔ سَبْعَة - حضرت ابن عباس کا قول ہے کہ سات والی بات صحیح ہے۔ کیونکہ پہلے اعداد کے ساتھ خدا تعالیٰ نے رجما بِالْغَيْبِ فرمایا۔ اس کے ساتھ نہیں فرمایا۔ بلکہ یہ امر کہ عیسائیوں کے ہاں سات بڑے کلیسیا مشہور ہیں۔ اس سے صاف صاف پتہ لگتا ہے کہ سات ہی تھے۔ (ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۹ نمبر ۴۰ مورخه ۱۰ مارچ ۱۹۱۰ ء صفحه ۱۵۶)