حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۳) — Page 413
حقائق الفرقان ۴۱۳ سُورَة بَنِي إِسْرَائِيلَ رب النوع کا ماننا اسلامی اعتقاد نہیں ۔ اس تذکرہ سے کسی قوم پر تعریض کرتے ہو، اسلامیوں میں تو یہ اعتقاد ہے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی موجود بالذات ، کوئی غیر مخلوق ، اور فاعل مستقل نہیں ۔ رب النوع کے معتقد اسلامیوں میں مشرک کہلاتے ہیں ۔ اور شرک کے حق میں قرآنی فتویٰ یہ ہے۔ اِنَّ الشرك لَظُلْمٌ عَظِيمٌ (لقمان: ۱۴) إِنَّ اللهَ لَا يَغْفِرُ أَنْ يُشْرَكَ بِهِ (النساء : ٢٩ bi النساء:۴۹)۔ ( تصدیق براہین احمد یہ کمپیوٹرائز ڈایڈیشن صفحہ ۱۸۲، ۱۸۳) وَ يَسْتَلُونَكَ عَنِ الرُّوحِ قُلِ الرُّوحُ مِنْ أَمْرِ رَبِّي وَمَا أُوتِيتُم مِّنَ الْعِلْمِ إِلَّا قَلِيلًا - یعنی یہ لوگ پوچھتے ہیں کہ روح کیا چیز ہے اور کیونکر پیدا ہوتی ہے۔ ان کو جواب دے کہ روح میرے رب کے امر سے پیدا ہوتی ہے۔ یعنی وہ ایک راز قدرت ہے۔ اور تم لوگ روح کے بارے میں کچھ علم نہیں رکھتے مگر تھوڑا سا یعنی صرف اس قدر کہ تم روح کو پیدا ہوتے دیکھ سکتے ہو۔ اس سے زیادہ نہیں ۔ اور انسانی روح کے پیدا ہونے کے لئے خدا تعالیٰ کا قانون قدرت یہ ہے کہ دونوں نطفوں کے ملنے کے بعد جب آہستہ آہستہ قالب تیار ہو جاتا ہے۔ تو جیسے چند ادویہ کے ملنے سے اس مجموعہ میں ایک خاص مزاج پیدا ہو جاتی ہے کہ جو ان دواؤں میں فرد فرد کے طور پیدا نہیں ہوتی ۔ اسی طرح اس قالب میں جو خون اور دو نطفوں کا مجموعہ ہے ایک خاص جو ہر پیدا ہو جاتا ہے اور وہ ایک فاسفرس کے رنگ میں ہوتا ہے۔ اور جب تجلی الہی کی ہوا گن کے امر کے ساتھ اس پر چلتی ہے تو ایک دفعہ وہ افروختہ ہو کر اپنی تاثیر اس قالب کے تمام حصوں میں پھیلا دیتا ہے تب وہ جنین زندہ ہو جاتا ہے۔ پس یہی افروختہ چیز جو جنین کے اندر تجلی ربی سے پیدا ہو جاتی ہے۔ اسی کا نام روح ہے۔ ( یادر ہے ) گوروح کا فاسفرس اس مادہ سے ہی پیدا ہوتا ہے۔ مگر وہ روحانی آگ جس کا نام روح ہے ۔ وہ بجر مس نسیم آسمانی کے پیدا نہیں ہو سکتی۔ یہ سچا علم ہے جو قرآن شریف نے ہمیں بتلایا ہے۔ تشحیذ الاذہان جلدے نمبر ۶ ۔ ماہ جون ۱۹۱۲ ء صفحہ ۲۷۳) لے یقینا شرک بڑا بھاری ظلم ہے ۔ ( ترجمہ از تصدیق براہین احمدیہ ) یقینا اللہ اسے معاف نہ کرے گا کہ اس کے ساتھ شرک کیا جاوے ۔ (ترجمہ از تصدیق براہین احمدیہ )