حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۳)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 411 of 548

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۳) — Page 411

حقائق الفرقان ۴۱۱ سُورَة بَنِي إِسْرَائِيلَ طرح کا گناہ اور کفر معاف کیا جاوے گا مگر وہ کفر جو روح کے حق میں ہو لوگوں کو معاف نہ ہو گا ( متی ۱۲ باب ۳۱) ۔ اور نیکی کو زندگی اور بدکاری کو موت کہنے کا محاورہ تو اس قدر ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ عند الشرح یہی حقیقی معنی ہیں ۔ مگر میں اب اس قصہ میں زیادہ طوالت لا حاصل جانتا ہوں ۔ يَسْتَلُونَكَ عَنِ الرُّوحِ ۔ میں اگر یہ پوچھا جاوے کہ یہ سوال عیسائیوں اور یہودیوں نے کیوں کیا ؟ تو وجہ ظاہر ہے۔ یوحنا کی انجیل میں اس روح کی آمد کی خبر تھی ۔ اور بہت لوگوں کا خیال تھا۔ پس حضور علیہ الصلوۃ والسلام سے سوال کیا گیا کہ قرآن کریم جسے تو نے بار ہا روح کہا ہے کس کی تصنیف ہے۔ تو خود قرآن کریم نے اس کا یوں جواب دیا کہ یہ قرآن اللہ تعالیٰ کا امر اور اس کا حکم اور اس کا کلام ہے۔ اور جو کہا وَ مَا أُوتِيتُم مِّنَ الْعِلْمِ إِلَّا قَلِيلًا - اس کے مخاطب وہی سائل ہیں جن کو بہت ادلہ سے ثابت کر دیا گیا تھا کہ قرآن کریم خدا کا کلام ہے۔ روح کی نسبت یہود کا سوال ہے۔ یا عیسائیوں یا دونوں کا یا مان لیتے ہیں کسی ایسے دیا نندیوں کے ہم خیال کا سوال ہے جو انسانی روح کے غیر مخلوق ، قدیم ، انادی ہونے کا معتقد تھا۔ کسی کا سوال ہو۔ کسی طرح کا سوال ہو ۔ ایسا وسیع جواب قرآن کریم نے دیا ہے کہ سب کو حاوی ہے۔ اور جواب دہندہ کی بے علمی یا قلت علم کا یہاں ذکر نہیں ۔ بلکہ مخاطبین کی بے علمی کا ذکر ہے جو با وجود دلائل واضح اور حجت ہائے قاطعہ کے سر تسلیم جھکانا پسند نہ کرتے تھے۔ ( تصدیق براہین احمد یہ کمپیوٹرائزڈ ایڈیشن صفحہ ۹۵ تا ۱۰۰) روح کو کتب مقدسہ اور پاک کتاب قرآن کریم نے بہت معنوں پر استعمال کیا ہے۔ اول ۔ روح کلام الہی کا نام ہے۔ اور اس لئے کہ کلام الہی سے بڑھ کر کوئی چیز زندگی کا موجب نہیں ۔ اگر اس متعارف روح سے چند روزہ زندگی حاصل ہو سکتی ہے تو اس روح ( کلام النبی ) سے جاودانی حیات ، ابدی نجات نیولائف ، دھرم جیون کو انسان لے سکتے ہیں۔ اگر اس روح سے چند روزہ جسمانی خوشیوں کو لے سکتے ہیں تو اس روح سے ابدی سرور، مہانند ، ابدی آرام پا سکتے