حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۳)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 409 of 548

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۳) — Page 409

حقائق الفرقان ۴۰۹ سُورَة بَنِي إِسْرَائِيلَ اب اس امر کے اثبات کے لئے کہ روح سے مراد وہی کلام الہی ہے جس سے ایما نا مردہ لوگ حیات ابدی پاتے ہیں۔ اور جو ہم نے مراد و معنے لئے ہیں۔ وہی حق اور منشائے فرقان مجید کے مطابق ہے۔ خود قرآن کریم سے مؤید آیات نقل کرتے اور اس محاورے کو واضح کرتے ہیں ۔ سنو! وَ كَذَلِكَ أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ رُوحًا مِنْ اَمْرِنَا مَا كُنْتَ تَدْرِى مَا الْكِتَبُ وَلَا الْإِيْمَانُ وَلَكِنْ جَعَلْنَهُ نُورًا نَّهْدِي بِهِ مَنْ تَشَاءُ مِنْ عِبَادِنَا ۖ وَ إِنَّكَ لَتَهْدِى إِلَى صِرَاطٍ مُسْتَقِيمٍ (الشورى : ۵۳) آتَى أَمْرُ اللَّهِ فَلَا تَسْتَعْجِلُوهُ سُبْحَنَهُ وَ تَعلَى عَمَّا يُشْرِكُونَ - يُنَزِّلُ الْمَلئِكَةَ بِالرُّوحِ مِنْ أَمْرِهِ عَلَى مَنْ يَشَاءُ مِنْ عِبَادِهِ أَنْ انْذِرُوا أَنَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنَا فَاتَّقُونِ (النحل: ٢-٣) رَفِيعُ الدَّرَجَتِ ذُو الْعَرْشِ يُلْقِي الرُّوحَ مِنْ اَمْرِهِ عَلَى مَنْ يَشَاءُ مِنْ عِبَادِهِ لِيُنْذِرَ يَوْمَ الثلاق (المومن : ١٦ ) بقیہ حاشیہ۔ پر عمل کرتا ہے تمہارا رب خوب جانتا ہے اس کو جو سیدھی راہ پر ہے۔ اور تجھ سے اس روح ( قرآن ) کی بابت پوچھتے ہیں کہہ دے یہ روح میرے رب کا امر ہے اور تم اسے مخالفو ! کچھ سمجھتے بوجھتے نہیں۔ اور اگر ہم چاہتے یہ کلام جو تجھ پر وحی کیا ہے لے جاتے پھر تجھے ہم سے لینے کے لئے کوئی وکیل نہ ملتا سوا تیرے رب کی رحمت کے یقیناً اس کا فضل تجھ پر بڑا ہے۔ کہہ دے اگر جن وانس اس پر متفق ہو جاویں کہ اس قرآن کی مانند لاویں تو ہرگز نہ لاسکیں گے گو وہ ایک دوسرے کے مددگار ہو جاویں۔ ہم نے اس قرآن میں ہر مثال مختلف طرزوں میں بیان کی ہے پر اکثر لوگوں نے کا فرنعمتی سے انکار کیا۔ اے اور ایسا ہی ہم نے تیری طرف اپنے امر سے روح بھیجی ہے ۔ تو نہ تو کتاب ہی سمجھتا تھا اور نہ ایمان پر ہم نے اسے نور بنایا ہے اس سے جس کو چاہتے ہیں اپنے بندوں میں سے ہدایت دیتے ہیں ۔ اور یقیناً تو سیدھی راہ کی طرف ہدایت کرتا ہے۔ ۲۔ اللہ کا امر آ گیا اب جلدی تو نہ کرو وہ بلند و برتر اس سے ہے کہ شرک کرتے ہیں ۔ فرشتوں کو روح دے کر اپنے حکم سے جن بندوں پر چاہے اتارتا ہے کہ ڈر سناؤ کہ میرے سوا کوئی معبود نہیں پھر مجھ ہی سے ڈرو۔ ۳ بلند درجوں والا صاحب تخت کا اپنے امر سے جس بندے پر چاہتا ہے روح ڈالتا ہے تو کہ وہ ملاقات (قیامت ) کے دن سے ڈراوے۔