حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۳)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 400 of 548

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۳) — Page 400

حقائق الفرقان لد ۔۔ سُورَة بَنِي إِسْرَائِيلَ ۔ وَإِنْ كَادُوا لَيَسْتَفِذُونَكَ مِنَ الْأَرْضِ لِيُخْرِجُوكَ مِنْهَا وَ إِذًا لَّا يَلْبَثُونَ خِلْفَكَ إِلَّا قَلِيلًا - ترجمہ ۔ اور وہ لوگ جو تم کو گڑ بڑی میں ڈالتے ہیں اس ملک میں تا کہ تجھے اس سے نکال دیں تو وہ سب بھی نہ رہنے پائیں گے تیرے پیچھے مگر تھوڑے ہی دن ۔ تفسیر یقینا یہ لوگ (اہل مکہ ) تجھے (محمد) اس زمین کے سے نکال ڈالنے والے ہیں مگر تیرے بعد یہ لوگ بھی تھوڑی ہی دیر بعد ر ہیں گے۔ (فصل الخطاب لمقدمہ اہل الکتاب حصہ اول صفحہ ۶۸) اللہ اللہ یہ پیشن گوئی کیسی پوری ہوئی۔ عادت اللہ قدیم سے اس طرح پر جاری ہے کہ جن قوموں نے ہادیان برحق کے نصائح نہ سنے اور ان کے دل سوز مشفقانہ کلام پر دھیان نہ کیا۔ ضرور وہ کسی نہ کسی تباہی میں گرفتار ہوئے اور جھوٹے نبی کا نشان یہ دیا گیا ہے کہ وہ قتل کیا جاوے گا۔ اور جو کوئی اس نبی کی بات نہ مانے گا۔سزا پائے گا۔ اب کفار عرب اس سچے رؤف و رحیم ہادی کو جھٹلا چکے ہیں ۔ طرر طرح کی اذیتیں دل کو کپکپا دینے والے آزار دے چکے ہیں۔ چونکہ وہ نبی صادق و مصدوق ہے اور وہ نبی وہ ہے جس کی نسبت موسی و عیسی بڑے فخر سے بشارت دیتے چلے آئے ہیں۔ اب خدائی غضب اُمنڈ آیا۔ کلمۃ اللہ بر سر انتقام آمادہ ہوا کہ ان کے دشمنان دین حق کو ہلاک کیا جاوے۔ مگر باری تعالیٰ بایں ہمہ اپنے رسول سے فرماتا ہے کہ جب تک تو ان لوگوں میں موجود ہے ( یعنی سرزمین مکہ میں ) ان پر عذاب نہ ہوگا اور عالم الغیب حق تعالیٰ ایک سال اس کی میعاد مقرر فرماتا ہے کہ یقینا اس عرصے میں بلا تقدم و تاخر ایک ساعت کے یہ واقعہ زوال وقوع میں آئے گا۔ قدرت حق کا کرشمہ مشاہدہ فرمائیے کہ کیونکر یہ وعدہ ایک سال بعد پورا ہوتا ہے۔ اب کفار عرب نے جن کا سرغنہ ابو جہل تھا۔ آنحضرت کے قتل کی مشورت کی ۔ اسی واسطے ۱۵ جولائی ۶۲۲ و جمعہ کے دن آپ نے مکہ سے ہجرت کی اور مدینہ منورہ کو چلے گئے ۔ دوسرے سال یعنی ۶۲۳ء میں بدر کا معرکہ ہوا۔ جس میں وہ سب معاندین اور مخالفین تباہ اور عذاب الہی میں گرفتار ہوئے ۔ وَالْحَمْدُ لِلهِ عَلَى ذَلِكَ ۔ ( فصل الخطاب لمقد مہ اہل الکتاب حصہ دوم صفحه ۲۵۱)