حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۳)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 398 of 548

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۳) — Page 398

حقائق الفرقان ۳۹۸ سُورَة بَنِي إِسْرَائِيلَ ۷۳،۷۲ - يَوْمَ نَدْعُوا كُلَّ أَنَاسٍ بِاِمَامِهِمْ فَمَنْ أُوتِيَ كِتْبَهُ بِيَمِينِهِ فَأُولَئِكَ يَقْرَءُونَ كِتْبَهُمْ وَلَا يُظْلَمُونَ فَتِيلًا - وَمَنْ كَانَ فِي هَذِهِ أَعْلَى فَهُوَ فِي الْآخِرَةِ أَعْمَى وَأَضَلُّ سَبِيلًا - ترجمہ ۔ اور جب ہم بلائیں گے ہر فرقہ کو ان کے پیشواؤں کے ساتھ تو جس کے سیدھے ہاتھ میں نامہ اعمال دیا جائے گا تو دیا جائے گا تو وہ لوگ پڑھیں گے اپنے نامہ اعمال کو اور ان پر ذرہ بھی ظلم نہ ہوگا ۔ اور جو کوئی اس دنیا میں اندھا رہا تو وہ آخرت میں بھی اندھا رہا اور بہت ہی دور بھٹک گیا راہِ راست سے ۔ تفسیر - امام ۔ اس کو کہتے ہیں جس کا اتباع کی جاوے۔ بدکار بدکاروں کی اقتداء کرتے ہیں ۔ اس لئے ان کا نام امام بد ہے۔ نیک نیکوں کی اقتداء کرتے ہیں اس لئے ان کا نام امام نیک ہے۔ دانشمند انسان غور کرے کہ وہ جہاں اولین و آخرین جمع ہوں گے۔ کس جماعت میں سے پیش ہونا چاہتا ہے۔ دنیا میں بھی کوئی بد معاشوں ، شہدوں کے ساتھ ہو کر بادشاہ کے حضور پیش ہونا پسند نہیں کرتا تو پھر اس احکم الحاکمین کے حضور اولین آخرین کے سامنے کب گوارا کر سکتا ہے کہ بری جماعت میں ہو کر پیش ہو۔ (ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۹ نمبر ۱۸ مورخه ۲۴ فروری ۱۹۱۰ صفحه ۱۵۲) یہ بات بڑی غور طلب ہے کہ ایک شخص بظاہر اچھے لباس میں لوگوں کے سامنے آتا ہے۔ نمازی بھی نظر آتا ہے لیکن کیا اسے اتنی ہی بات پر مطمئن ہو جانا چاہیے؟ ہر گز نہیں۔ اگر اسی پر انسان کفایت کرتا ہے اور اپنی ساری ترقی کا مدار اسی پر ٹھہراتا ہے تو وہ غلطی کرتا ہے۔ جب تک اللہ تعالیٰ کی طرف سے اسے یہ سرٹیفکیٹ نہ مل جاوے کہ وہ مومن ہے وہ مطمئن نہ ہو۔ سعی کرتا رہے اور نمازوں اور دعاؤں میں لگا ر ہے تا کہ کوئی ایسی ٹھو کر اسے نہ لگ جاوے جو ہلاک کر دے۔ عام طور پر تو یہ فتویٰ اسی وقت ملے گا جبکہ سعادت مند جنت میں داخل ہوں گے اور شقی دوزخ میں ۔ لیکن خدا تعالیٰ یہاں بھی التباس نہیں رکھتا۔ اسی دنیا میں بھی یہ امر فیصل ہو جاتا ہے۔ اور مومن اور کافر میں ایک بین امتیاز رکھ دیتا ہے جس سے صاف صاف شناخت ہو سکتی ہے۔ ہر ایک شخص ان آثار اور ثمرات کو جو ایمان اور اعمال صالحہ کے ہیں اسی دنیا میں بھی پاسکتا ہے اگر سچا مومن ہو بلکہ اگر کوئی شخص اس دنیا میں کوئی اثر اور