حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۳)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 395 of 548

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۳) — Page 395

حقائق الفرقان ۳۹۵ سُورَة بَنِي إِسْرَائِيلَ تفسیر لاحتَنگن ۔ اس کے تین معنے ہیں۔ ا۔ تابعین نے معنے کئے ہیں۔ اَحْتَوِيَن حاوی ہو جاؤں گا۔ ۲۔ لاسْتَوْلِينَ مسلط ہو جاؤں گا۔ شاہ عبدالقادر نے لطیف ترجمہ کیا ہے۔ ان کی ڈھائی باندھوں گا۔ ڈھائی کو پنجابی میں کھتی کہتے ہیں ۔ قال کے متعلق یاد رکھنے کی بات ہے کہ ضرب فعل ۔ قَالَ تینوں بلکہ ان کے ساتھ قتل بھی قریب المعنی ہیں۔ منہ سے کہے، ہاتھ ، پاؤں، ناک، آنکھوں کے کسی فعل کو کرے یا کسی واسطے سے کرے سب پر قَالَ بولا جاتا ہے۔ اسی واسطے صوفیوں نے بالعموم انہی افعال کو رکھا ہے۔ كَلَّمَ کا لفظ بھی وسیع ہے۔ ہاں كَلَّمَ تَكْلِيما جب آئے تو پھر لفظوں سے بات کرنے کے معنے میں آتا ہے۔ كَلَّمَ الْجِدَارُ الوتد تعلیمات کبھی نہیں بولتے ۔ (ضمیمہ اخبار بدر قادیان جلد ۹ نمبر ۱۸ مورخه ۲۴ رفروری ۱۹۱۰ صفحه ۱۵۲) ۶۴ - قَالَ اذْهَبْ فَمَنْ تَبِعَكَ مِنْهُمْ فَإِنَّ جَهَنَّمَ جَزَاؤُكُمْ جَزَاء مَوْفُورًا - ترجمہ۔ جواب ملا جا جا ان میں سے جو تیری پیروی کرے گا تم سب کی جہنم سزا ہے جو پوری پوری سزا ہے۔ تفسیر - جَزَاء تَمُوفُورًا۔ عربی زبان میں جب اسم فاعل کمال کو پہنچے تو صیغہ مبالغہ سے بڑھ کر اسے مفعول کے رنگ میں ادا کرتے ہیں۔ وفور کے معنے ہیں ۔ بڑی وافر ۔ ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۹ نمبر ۱۸ مورخه ۲۴ فروری ۱۹۱۰ء صفحه (۱۵۲) ۶۵ - وَ اسْتَفْزِزُ مَنِ اسْتَطَعْتَ مِنْهُم بِصُوتِكَ وَ أَجْلِبُ عَلَيْهِمْ بِخَيْلِكَ وَ رَجِلِكَ وَ شَارِكْهُمْ فِي الْأَمْوَالِ وَالْأَوْلَادِ وَعِدُهُمْ وَمَا يَعِدُهُمُ الشَّيْطَنُ إِلَّا وووت غرورا ۔ ترجمہ۔ اور ہلکا بنالے اور بہکالے ان میں سے؟ میں سے جس کو تو بہکا سکے اور مضطر کر سکے اپنی آواز سے اور چڑھا لا سواران پر اور پیادے اور اپنا حصہ لگا دے ان کے مال اور اولاد میں اور ان سے وعدہ کیا کر اور شیطان تو جو کچھ ان سے وعدہ کرتا ہے وہ وعدہ جھوٹ و دغا بازی ہی کا ہوتا ہے۔ لے اس نے لفظوں میں خوب کلام کیا ۔ ۲ دیوار دیوار نے کیل سے خوب کلام کیا۔