حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۳)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 388 of 548

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۳) — Page 388

حقائق الفرقان ۳۸۸ سُورَة بَنِي إِسْرَائِيلَ کو۔ اس لفظ کے یہ معنے نہیں کہ ہم رک گئے ۔ ہاں اگر قرآن کریم میں یوں ہوتا مَا امْتَنَعَنَا أَنْ تُرْسِلَ بِالْايَتِ إِلَّا أَنْ كَذَّبَ بِهَا الْأَوَّلُونَ ۔ جس کے معنے ہیں۔ نہیں رکے ہم آیات اور نشانات کے بھیجنے سے مگر اس لئے کہ پہلوں نے تکذیب کی تو البتہ منکرین معجزہ کی تقریر کچھ تھوڑی دور تک چل پڑتی ۔ مگر قرآن میں اِمْتَنَعَنَا نہیں ، مَنَعَنَا ہے۔ جس کے معنے ہیں روکا ہم کو ۔ نہ یہ کہ نہ رکے ہم غرض تکذیب نے روکا۔ اور باری تعالیٰ نہ رکا۔ روکنے کے ثبوت میں بفرض و تسلیم یہی آیت اور نہ روکنے کا ثبوت وہ آیات ہیں جن میں ثبوت آیات ہے۔ وَ الْقُرْآنُ مُتَشَابِهًا أَي يُصَدِّقُ بَعْضُهُ بَعْضًا - قرآن کریم کی آیات متشابہ ہیں ۔ یعنی ایک آیت دوسری آیت کے مصدق ہوتی ہے۔ نہ اس کے مخالف اور مکذب - هَذَا أَيْضًا بِتَائِيُدِ رُوحِ الْقُدُسِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ - پنجم اس لئے کہ بعض وہ معجزات جن کو یہودی اور عیسائی اور اہلِ مکہ اہل کتاب کے سمجھانے اور بہکانے سے پوچھتے تھے جو حضور علیہ الصلوۃ والسلام کی پیشگوئیوں اور بشارتوں کے بالکل خلاف تھے اور ایسے معجزات کو مخالف لوگ اس واسطے طلب کرتے تھے کہ اگر یہ معجزات خلاف بشارات ظہور پذیر ہوئے تو ہم بشارات اور حضور کی ان پیشگوئیوں کے ذریعہ حضور پر اعتراض کریں گے جو انبیاء نے کتب مقدسہ میں حضور کے حق میں کئے ہیں اور اگر ایسے معجزات بلحاظ ان بشارات کے ہم کو دکھائے نہ گئے تو معجزات کے نہ ہونے کا الزام قائم کر دیں گے۔ مثلاً حضور علیہ السلام کی نسبت ایک بشارت میں یہ آیا ہے کہ جو کلام اس نبی موعود پر اترے گا وہ ایک دفعہ کتاب کے طور پر نازل نہ ہوگا ۔ بلکہ وہ کلام اس نبی موعود صلی اللہ علیہ وسلم کے منہ میں رکھا جائے گا کچھ یہاں اور کچھ وہاں ۔ غور کرو کتب مقدسہ کی آیات ذیل ۔ ان کے بھائیوں میں سے تجھ سا ایک نبی بر پا کروں گا اور اپنا کلام اس کے منہ میں ڈالوں گا ۔“ استثناء ۱۸ باب ۱۸ ۔