حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۳) — Page 29
حقائق الفرقان ۲۹ سُورَةُ الْأَنْفَال نہ کر سکو گے۔ جو ایک بھاری مجمع پر ہوتا ہے۔ وَ اَلَّفَ بَيْنَ قُلُوبِهِمْ لَوْ انْفَقْتَ مَا فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا مَّا الَّفْتَ بَيْنَ قُلُوبِهِمْ وَلَكِنَّ اللهَ أَلَّفَ بَيْنَهُمْ إِنَّهُ عَزِيزٌ حَکیم میں اسی کی طرف اشارہ ہے۔ وحدت کی روح کو جو کہ صحابہ کرام میں پھونکی گئی تھی اس کو خدا تعالیٰ نے اپنے فضل سے تعبیر کیا ہے۔ اس وحدت کے پیدا ہونے کے لئے چاہیے کہ آپس میں صبر اور تحمل اور برداشت ہو۔ اگر یہ نہ ہوگا اور ذرا ذراسی بات پر روٹھو گے تو اس کا نتیجہ آپس کی پھوٹ ہوگا۔ الحکم جلد ۹ نمبر ۲ مورخه ۱۷ جنوری ۱۹۰۵ء صفحه ۱۰) دیکھو دو کو ایک کر نا سخت سے سخت مشکل کام ہے تو پھر ہزاروں کا ایک راہ پر جمع کرنا اور ان میں وحدت اور الفت کا پیدا کر دینا خدا کے فضل کے سوا کہاں ممکن ہے؟ دیکھو تم خدا کے فضل سے بھائی بھائی ہو گئے ۔ اس نعمت کی قدر کرو اور اس کی حقیقت کو پہچانو اور اخلاص اور اثبات کو اپنا شیوہ بناؤ۔ الحکم جلد ۱۲ نمبر ۳۸ مورخه ۱۴ رجون ۱۹۰۸ صفحه (۸) ۶۵ - يَأَيُّهَا النَّبِيُّ حَسْبُكَ اللهُ وَ مَنِ اتَّبَعَكَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ ۔ ترجمہ ۔ اے نبی ! اللہ تجھے بس ہے اور تیرے متبع مومنوں کو۔ تفسیر بدیوں پر اسے جرات ہوتی ہے جو موؤمن باللہ نہ ہو یا مومن با الیوم الآخرت نہ ہو۔ ” یا مستحق کرامت گنہگا رانند“ پر ایمان لایا یا صحبت بد میں رہنے والا ۔ وَ مَنِ اتَّبَعَكَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ ۔ اے نبی تجھے اللہ بس ہے اور جو تیرے ساتھ مومن ہیں ان کو بھی اللہ بس ہے۔ تشحیذ الاذہان جلد ۸ نمبر ۹ ماه ستمبر ۱۹۱۳ ء صفحہ ۴۵۷) ٦٦ - يَأَيُّهَا النَّبِيُّ حَرْضِ الْمُؤْمِنِينَ عَلَى الْقِتَالِ إِنْ يَكُنُ مِنْكُمْ عِشْرُونَ صُبِرُونَ يَغْلِبُوا مِائَتَيْنِ وَ إِنْ يَكُن مِّنْكُمْ مِائَةٌ يَغْلِبُوا الْفًا مِنَ الَّذِينَ كَفَرُوا بِأَنَّهُمْ قَوْمٌ لَا يَفْقَهُونَ - ترجمہ ۔ اے نبی ! مومنوں کو بہت بہت تحریض دلالڑائی کے لئے ۔ اگر ہوں گے تم میں سے ہیں آدمی صابر وہ ہیں ہی غالب آجائیں گے دو دو سو پر اور اگر ہوا کریں گے تم میں سے ایک سو تو وہی غالب آیا