حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۳)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 378 of 548

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۳) — Page 378

حقائق الفرقان ۳۷۸ سُورَة بَنِي إِسْرَائِيلَ کرے گا تو تم جواب دو کہ وہی جس نے تم کو پہلی بار پیدا کیا تھا تو یہ لوگ تیرے سامنے سر ہلانے لگیں گے اور کہیں گے یہ کب ہو گا تم کہہ دو کہ امید ہے کہ قریب ہی ہوگا۔ تفسير فَسَيُنْغِضُونَ ۔ بعض کہتے ہیں کہ سر کو اونچا کر کے نیچا یا نیچا کر کے اونچا کرنا بے ایمان لوگوں کی عادت ہے کہ حقارت کا اظہار اس طریق پر کرتے ہیں ۔ (ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۹ نمبر ۱۸ مورخه ۲۴ فروری ۱۹۱۰ ء صفحه ۱۵۱) ۵۴ - وَقُلْ لِعِبَادِى يَقُولُوا الَّتِي هِيَ أَحْسَنُ إِنَّ الشَّيْطَنَ يَنْزَعُ بَيْنَهُمْ إِنَّ الشَّيْطَنَ كَانَ لِلْإِنْسَانِ عَدُوَّا مُّبِينًا - ترجمہ۔ اور کہہ دے میرے بندوں کو ایسی ہی بات بولا کرو جو بہت بہتر ہو کچھ شک نہیں کہ شریر ہلاک کرنے والا نزاع ڈال دیتا ہے لوگوں میں بے شک شیطان انسان کا کھلا کھلا دشمن ہے۔ تفسیر - هِيَ أَحْسَنُ۔ اس پر مجھے ایک حکایت یاد آ گئی ۔ ایک مولوی ایک مس کو پڑھایا کرتے۔ میں نے ان پر ایسا اعتبار جمایا کہ اپنی کنجیاں تک ان کے سپرد کر رکھی تھیں۔ میں نے انہیں کہا۔ ہوشیار رہنا ایک دن بھاگتے میرے پاس آئے ۔ وجہ دریافت کی تو بتلایا کہ مس نے مجھ پر اعتراض کیا ہے کہ بھی مونت کی ضمیر ہے اور یہ اَحْسَنُ کے لئے ہے جو مذکر ہے۔ یہ کیونکر درست ہوا ؟ میں نے کہا یہ تو معمولی بات ہے کہ یہ اسم تفضیل جس پر ال نہ ہو مذکر و مؤنث کے لئے لئے یکساں آ سکتا ہے۔ جب جا کر ان کو ہوش آیا۔ اس موقع پر میں تمہیں نصیحت کرتا ہوں کہ اول بات کو تو لو۔ پھر منہ سے بولو۔ انسان ایسا لفظ کیوں منہ سے نکالے جس کا نتیجہ اخیر میں برا بھگتنا پڑے۔ يَنْزَعُ بَيْنَهُم - يُفْسِدُ بَيْنَهُمْ سورة یوسف میں بھی یہ لفظ آیا ہے مِنْ بَعْدِ أَنْ تَزَعَ الشَّيْطَنُ بَيْنِي وَبَيْنَ اخْوَتِي (یوسف: ۱۰۱) (ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۹ نمبر ۱۸ مورخه ۲۴ فروری ۱۹۱۰ صفحه ۱۵۱) لے اس کے بعد کہ فساد ڈال دیا تھا شیطان نے مجھ میں اور میرے بھائیوں میں ۔