حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۳) — Page 371
حقائق الفرقان ۳۷۱ سُورَة بَنِي إِسْرَائِيلَ تولنے میں سیدھا معاملہ کرو۔ انجام بخیر ہوگا ۔ جس چیز کا علم نہ ہوا سے منہ سے مت بولو۔ اس کے در پے نہ ہو۔ کانوں اور آنکھوں اور قویٰ کے مرکزوں سے یہ باتیں اٹھتی ہیں۔ ان سب سے باز پرس ہو گی ۔ اکثر بازی سے ملک میں مت چلو۔ تم نہ زمین پھاڑ سکتے ہو، نہ لمبائی میں پہاڑوں کو پہنچ سکتے ہو۔ خدا کو یہ باتیں ناپسند ہیں ۔ ان کو چھوڑ دو۔ اللہ نے اس کتاب میں بڑی حکمت کی اور پکی باتیں بتائی ہیں ۔ ان پر عمل کرو۔ اللہ کے سوا کسی کو معبود نہ بناؤ ۔ مشرکوں کی سزا جہنم ہے۔ (الفضل جلد نمبر امورخه ۱۸ رجون ۱۹۱۳ ءصفحہ ۱) ٣٣- وَلَا تَقْرَبُوا الزِّنَى إِنَّهُ كَانَ فَاحِشَةً وَسَاءَ سَبِيلًا - ترجمہ۔ اور زنا کے پاس نہ جاؤ بے شک وہ کھلی کھلی بے حیائی اور بری راہ ہے۔ تفسیر بدکاری کے پاس بھی نہ جاؤ۔ زنا بڑی بے حیائی اور برائی ہے اور بری راہ ہے۔ ( تصدیق براہین احمدیہ کمپیوٹرائزڈ ایڈیشن صفحہ ۲۳۸) وَلَا تَقْرَبُوا الزنى ۔ دوسری طاقت شہوت کی ہے۔ جو اولاً بعض اوقات کانوں کے ذریعہ سے شروع ہوتی ہے۔ پھر آنکھ کے ذریعہ۔ اسی واسطے اسلام میں غض بصر کا حکم ہے۔ مولوی اسماعیل صاحب شہید علیہ الرحمۃ اپنی کتاب میں لکھتے ہیں کہ اگر حسین جمیل کے دیکھنے سے انسان آنکھیں نیچی کرلے تو اس کے دل میں ایک نور پیدا ہوتا ہے۔ ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۹ نمبر ۱۸ مورخه ۲۴ فروری ۱۹۱۰ ء صفحه ۱۵۱،۱۵۰) ۳۴۔ وَلَا تَقْتُلُوا النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللهُ إِلَّا بِالْحَقِّ وَمَنْ قُتِلَ مَظْلُومًا فَقَدْ جَعَلْنَا لِوَلِيّهِ سُلْطنًا فَلَا يُسْرِفُ فِي الْقَتْلِ إِنَّهُ كَانَ مَنْصُورًا - ترجمہ۔ اور نہ قتل کرو جان کو جو حرام کر دی اللہ نے مگر سچ کے ساتھ (یعنی قصاص میں ) اور جو شخص ظلم سے مارا گیا تو ہم نے اس کے وارث کو غلبہ دیا ہے تو زیادتی نہ کرے قتل میں بے شک اس کو مدد دی گئی ہے ۔