حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۳)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 368 of 548

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۳) — Page 368

حقائق الفرقان ۳۶۸ سُورَة بَنِي إِسْرَائِيلَ چاہے بے شک اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے حال کا بڑا اخبردار بڑا دیکھنے والا ہے۔ تفسیر ۔ اگر ان لوگوں کے دینے کو جنہیں دینا ہے تیرے پاس کچھ نہ ہو اور تو اس امید پر کہ عنقریب تجھے تیرا محسن رب کچھ دے گا۔ تو سر دست ان کو ایسا جواب دے ۔جس سے ان کو آرام ہو اور ان کی امید بڑھے۔ ( تصدیق براہین احمدیہ ۔ کمپیوٹر ائز ڈایڈیشن صفحہ ۲۲۰) نہ ایسا بخیل کنجوس بن کہ گویا تیرے ہاتھ تیری گردن سے بندھے ہیں۔ اور نہ اتنا فضول خرچ بن کہ کچھ بھی تیرے پاس نہ رہے اگر ایسا ہوا تو تجھے ملامت لگے گی اور تھکا ماندہ رہ جاوے گا ۔ ( بعض انسانوں کی حالت ایسی حالت ہوتی ہے کہ محتاج کو دیکھ کر گھبرا جاتے ہیں اور فضول کر بیٹھتے ہیں ایسوں کو مخاطب کر کے فرمایا تیرے رب کی طرف سے ہے کہ کسی کو دولتمند کرتا ہے اور کسی کو مفلس تو کیوں گھبراتا ہے وہ حکیم اپنے بندوں سے واقف اور ان کے حالات پر آگاہ ہے۔ ( تصدیق براہین احمدیہ کمپیوٹرائز ڈایڈیشن صفحہ ۲۲۰) ۳۲- وَلَا تَقْتُلُوا أَوْلَادَكُمْ خَشْيَةَ إِمْلَاقٍ نَحْنُ نَرْزُقُهُمْ وَ إِيَّاكُمْ إِنَّ قَتْلَهُمْ كَانَ خِطَا كَبِيرًا - ترجمہ۔ اور نہ مار ڈالو اپنی اولاد کو تنگ دستی کے خوف سے ہمیں روزی دیتے ہیں ان کو اور تم کو بھی بے شک ان کا مار ڈالنا بڑی خطا ہے۔ تفسیر اولوگو! اپنی اولاد کو اس لئے تو قتل نہ کیا کرو کہ ہم ان کو کہاں سے کھلاویں گے۔ تم اور وہ ہمارا ہی رزق کھاتے ہیں اور بات تو یہ ہے کہ اولاد کا قتل کسی سبب سے کیوں نہ ہو بڑی بھاری غلطی اور بدی ہے۔ ( تصدیق براہین احمدیہ کمپیوٹرائز ڈایڈیشن صفحہ ۲۲۰) وَلَا تَقْتُلُوا أَوْلَادَكُمْ خَشْيَةَ اِمْلَاقٍ ۔ انسان میں ایک غضب کی طاقت ہے۔ وہ جب حد سے بڑھتی ہے تو کئی کئی رنگوں میں ظاہر ہوتی ہے۔ غضب والا انسان گالی دیتا ہے۔ اپنی اولاد کو قتل کر دیتا ہے۔ اس قتل کے بڑے اسباب میں سے مردوں کی بد چلنی بھی ہے۔ پھر مفلسی کا ڈر۔ جیسا کہ آج کل بعض لوگ کہتے ہیں کہ بہت اولاد نہیں چاہیے یہ موجب ہے ملک کے افلاس کا ۔ (ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۹ نمبر ۱۸ مورخه ۲۴ فروری ۱۹۱۰ ء صفحه ۱۵۰)